
استنبول: ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور مجید تخت روانجی نے انکشاف کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بعض پیغامات کا تبادلہ ثالث ممالک کے ذریعے جاری ہے۔ ترکیہ کے ٹی وی چینل "خبر تُرک” کو دیے گئے انٹرویو میں مجید تخت روانجی نے کہا کہ عمان سمیت بعض ملکوں نے دونوں فریقوں کے درمیان پیغام رسانی میں کردار ادا کیا ہے۔ تخت روانجی نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں استنبول میں برطانیہ، فرانس، جرمنی کے ساتھ مذاکرات میں ایران نے یہ واضح کیا کہ یورینیم کی افزودگی ایرانی مؤقف کا لازمی جزو ہے اور اسے کسی معاہدے سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلی ملاقات کی تاریخ اور مقام طے نہیں ہوا، تاہم استنبول ایران اور یورپی فریقین دونوں کی ترجیح ہے۔
ادھر برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اقوام متحدہ کی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون میں ناکام رہا، یا سفارتی عمل میں واپسی سے گریز کیا، تو اقوام متحدہ کی سابقہ پابندیاں دوبارہ عائد کر دی جائیں گی۔


































