
کربلا : امام حسین علیہ السلام نے دو دن کی پیاس کے باوجود شب عاشور اپنے اہلبیت و اصحاب کے ہمراہ تلاوت قرآن و عبادت میں گزاری، روز عاشور نماز فجر کے بعد جنگ کا آغاز ہوا تو امام حسین علیہ السلام نے اتمام حجت کیلئے عمر بن سعد کے لشکر کی جانب رخ کیا اور ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے لوگو! میری بات سنو! جنگ کرنے میں اس وقت تک عجلت نہ کرو، جب تک کہ میں تمہیں اس چیز کی نصیحت نہ کردوں، جس کا ادا کرنا میرے اوپر فرض ہے، میں تمہارے سامنے حقیقت بیان کئے دیتا ہوں، اگر انصاف سے کام لو گے تو خوش بخت ہو جاﺅ گے اور اگر قبول نہیں کرو گے اور حق و انصاف کی راہ سے کنارہ کشی کرو گے اور اپنے ارادہ کو عملی جامہ پہناﺅ گے اور ہم سے جنگ کرو گے تو خدا میرا آقا و مولا ہے کہ جس نے قرآن نازل کیا اور نیکو کاروں کے اختیار میں دے دیا، لوگو! میرا نسب یاد کرو، سوچو میں کون ہوں؟ ہوش میں آﺅ اپنے نفسوں پر ملامت کرو اور غور کرو کیا مجھے قتل کرنا اور میری حرمت پامال کرنا تمہارے لئے روا ہے؟ کیا میں تمہارے نبی کی بیٹی کا بیٹا اور رسول(ص) کے وصی کا فرزند اور آنحضرت کے ابن عم کا پسرنہیں ہوں؟ کیا میں اس کا نور چشم نہیں ہوں، جو سب سے پہلے ایمان لایا اور رسول کی ان باتوں کی تصدیق کی جو وہ خدا کی طرف سے لائے تھے، کیا سید الشہداء حضرت حمزہ میرے چچا نہیں ہیں؟ کیا جعفر طیار کہ جنہیں خدا نے دو پر عطا کئے ہیں، جن کے ذریعے وہ بہشت میں پرواز کرتے ہیں، وہ میرے چچا نہیں ہیں؟ کیا تم نہیں جانتے کہ رسول خدا(ص) نے میرے اور میرے بھائی کے بارے میں فرمایا ہے یہ دونوں جنت کے جوانوں کے سردار ہیں، جابر بن عبداللہ انصاری، ابو سعید خدری، سہیل بن سعد ساعدی، زید بن ارقم اور انس بن مالک سے پوچھ لو وہ تمہیں بتائیں گے کہ رسول سے کیا سنا ہے، اس سے میری باتوں کی تصدیق ہو جائے گی، آیا یہ گواہیاں تمہیں میرا خون بہانے سے باز نہیں رکھتی ہیں۔؟ میں تمہیں صراط مستقیم کی طرف بلاتا ہوں، جو میری اطاعت کرے گا، وہ ہدایت پا جائے گا اور جو میری نافرمانی کرئے گا، وہ ہلاک ہوگا، تم سب میرے فرمان سے سرکشی کرتے ہواور میری باتوں پر کان نہیں دھرتے، کیونکہ تمہارے پیٹ حرام مال سے بھرے ہوئے ہیں اور تمہارے دلوں پر بدبختی و شقاوت کی مہر لگ چکی ہے، اے گروہ! خدا تمہیں ہلاکت و مصیبت میں مبتلا کرے، تم نے ہمیں فریاد و عاجزی سے پکارا، تاکہ ہم تمہاری فریاد کو پہنچیں اور ہم جلدی سے تمہاری فریاد رسی کیلئے آگئے تو تم نے وہی تلوار ہمارے اوپر کھینچ لی، جو ہم نے تمہارے ہاتھ میں دیدی تھی اور تم نے وہی آگ ہمارے لیے بھڑکائی، جو ہم نے اپنے اور تمہارے دشمنوں کیلئے روشن کی تھی، اپنے دوستوں سے جنگ اور اپنے دشمنوں کی نصرت کیلئے کھڑے ہوگئے ہو، اگرچہ نہ وہ تمہارے درمیان انصاف کرتے ہیں اور نہ تم ان سے کسی بھلائی کی توقع رکھتے ہو اور یہ سب اس صورت میں ہے کہ ہم سے ایسی کوئی چیز صادر نہیں ہوئی کہ جس کی پاداش میں ہم سے ایسی دشمنی کی جائے اور ہم پر حملہ کیا جائے، خدا تمہیں سمجھے، ہمیں اس وقت کیوں پریشان کیا، جب تلواریں غلاف میں تھیں اور دلوں کو سکون تھا، مکھیوں کی مانند فتنہ کی طرف اڑے اور پروانوں کی طرح ایک دوسرے کی جان کی فکر میں پڑ گئے، کنیز کی اولادو! گروہوں کے پسماندگان! کتاب خدا سے منہ پھیرنے والو! خدا کی آیات میں تحریف کرنے والو! سنت رسول کو فراموش کرنیوالو! انبیاء کی اولاد اور ان کے اوصیاء کی عترت کو تہ تیغ کرنے والو! مجہول النسب کو صاحبان نسب سے ملحق کرنے والو! مومنوں کو آزار پہنچانے والو اور قرآن کو پارہ پارہ کرنے والو! کفار کا ڈھنڈورا پیٹنے والو! خدا تمہیں غارت کرے، خدا کی قسم بیوفائی اور پیمان شکنی تمہاری عادت ہے، تمہارا خمیر مکر و بیوفائی سے آمیختہ ہے، اس کے مطابق تمہاری پرورش ہوئی ہے، تم بدترین میوہ ہو، اپنے باغبان کیلئے گلے کی ہڈی، راہزنوں اور غاصبوں کیلئے خوش مزہ، خدا لعنت کرے ان پیمان شکن لوگوں پر جنہوں نے محکم شدہ میثاقوں کو توڑ دیا، تم نے خدا کو اپنا کفیل قرار دیا تھا، خدا کی قسم وہ پیمان شکن تم ہی ہو۔ آج ولدالزنا ابن ولدالزنا (عبید اللہ بن زیاد) نے مجھے دو چیزوں کے درمیان لاکھڑا کیا ہے، تلوار کھنچنے یا ذلت قبول کرنے کا، میں ہرگز ذلت قبول نہیں کروں گا۔ خدا اور اس کا رسول اور مومنین ہرگز ذلت پسند نہیں کرتے، ہماری پرورش کرنے والے پاک دامن، بیدار مغز اور غیرتمند ہیں، ہم ہرگز پست و کمین کی اطاعت نہیں کریں گے۔ اس مختصر جماعت کیساتھ میں تم سے جنگ کروں گا اگرچہ مجھے مدد گاروں نے تنہا چھوڑ دیا ہے۔


































