
نیویارک : اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی نے اپنے فیصلے میں قراردیا ہے کہ فرانس نے ایک خاتون پر حجاب پہننے پر پابندی عائد کرکے بین الاقوامی حقوق کے معاہدے کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔فرانس میں اس خاتون پر سرپوش اوڑھنے کی بناپر ایک تربیتی کورس کے دوران میں اسکول میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ کمیٹی نے کہا کہ اس اقدام سے شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور فرانسیسی اسکول نے ایک طرح سے اس معاہدے کو توڑ دیا ہے۔ خاتون کو ہیڈ اسکارف پہنتے ہوئے اپنے جاری تعلیمی کورس میں شرکت سے منع کرنامعاہدے کی خلاف ورزی ہے۔اس کے علاوہ یہ ان کے مذہب کی آزادی کے حق پر بھی پابندی ہے۔کمیٹی نے یہ فیصلہ 2016 میں ایک فرانسیسی شہری کی دائر کردہ شکایت پرجاری کیا ہے۔اس خاتون کا وکیل ان کا نام شائع نہیں کرنا چاہتا۔ یہ خاتون 1977 میں پیدا ہوئی تھیں اور وہ 2010 میں بالغوں کے لیے ایک پیشہ ورانہ تربیتی کورس میں شریک ہونا چاہتی تھیں۔انھوں نے اس کورس کے لیے انٹرویو اور داخلہ کا امتحان پاس کیا تھا۔لیکن پیرس کے جنوب مشرقی مضافات میں واقع لانگیوین والن ہائی اسکول کے ہیڈماسٹر نے عوامی تعلیمی اداروں میں مذہبی علامات پہننے پرپابندی کے قانون کی وجہ سے انھیں عمارت میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔


































