
دوحہ: حماس کے رہنما خلیل الحیا نے کہا کہ غزہ کے غیر انسانی محاصرے، نسل کشی اور بھوک سے اموات کے بعد مذاکرات جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔ خلیل الحیا نے کہا کہ حماس نے بالواسطہ بات چیت کے دوران ہر ممکن لچک کا مظاہرہ کیا جو ہمارے لوگوں کے اصولوں سے متصادم نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے آخری دور کے دوران واضح پیشرفت ہوئی ہے اور حماس نے ثالثوں کے تجویز کردہ اہم عناصر کو قبول کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے آخری دور میں ہم نے قیدیوں کی واپسی اور امداد کے حوالے سے جو پیش کش کی تھی اس سے اتفاق کیا۔
انہوں نے مذاکرات سے اسرائیل اور امریکا کی اچانک علیحدگی پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکا کی دستبرداری سے حیران تھے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دور سے اسرائیل کے فرار سے واضح ہے کہ اس کا مقصد وقت ضائع کرنا اور مزید نسل کشی کرنا ہے۔


































