
دوحہ: حماس نے اسرائیل سے جنگ بندی تجاویز پر رضا مندی ظاہر کردی جبکہ اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ تجاویز کا جائزہ لےرہاہے۔ حماس نے اپنے ٹیلیگرام چینل پر ایک بیان میں کہا کہ اس نے ثالثوں کو جنگ بندی سے متعلق اپنا اور دیگر فلسطینی دھڑوں کا متفقہ جواب دے دیا ہے۔ حماس نے جنگ بندی کی تجویز پر رد عمل میں نقشے اور امداد کی شقوں میں ترامیم کے ساتھ جواب دیا ہے۔ نقشے سے متعلق ترمیم میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فلاڈلفیا راہداری سے 1200 میٹر پیچھے ہٹ جائے۔ مجوزہ ترامیم کے تحت امداد کی تقسیم کا ایک حصہ اقوام متحدہ کے اداروں کو دیا جائے گا جبکہ دوسرا حصہ فلسطین ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن کے ذریعے تقسیم کیا جائے گا۔
ایک اسرائیلی عہدے دار نے کہاہےکہ تل ابیب کو غزہ میں جنگ بندی سے متعلق پیشکش پر حماس کا جواب موصول ہو چکا ہے اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ یہ جواب منگل کو دیے گئے جواب کے مقابلے میں بہتر ہے۔ جسے ثالثوں نے بالکل مسترد کر دیا تھا اور اسرائیل تک پہنچایا بھی نہیں تھا.


































