
تل ابیب : امریکی صدر جوبایڈن نے ایک بار پھر اعتراف کیا ہے کہ ایٹمی معاہدے سے نکلنا امریکا کی بڑی غلطی تھی۔ ان کی حکومت کا ماننا ہے کہ امریکا کو اس معاہدے میں واپس آجانا چاہئے۔اسرائیلی ٹی وی چینل سے گفتگو میں جوبائیڈن نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام لگایا کہ انہوں نے معاہدے کو ختم کر کے اچھا نہیں کیا، جس کے نتیجے میں ایران مزید خطرناک ہو گیا ہے۔وہ جوہری ہتھیاروں کے حصول کے جتنا اب قریب ہے، اس سے قبل نہیں تھا۔ موجودہ ایران سے کوئی بدتر چیز ہو گی تو وہ جوہری ہتھیار رکھنے والا ایران ہو گا۔ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے باز رکھنے کے لیے آخری آپشن کے طور پر فوجی کارروائی کی ضرورت پڑی تو اس پر عمل خارج از امکان نہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے حوالے سے اسرائیلی قیادت کے ساتھ کوئی بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کی پاسداران انقلاب فورس کو غیرملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں رکھے گا، چاہے اس سے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے سے متعلق بات چیت ختم ہو جائے۔


































