
BEIRUT, LEBANON – JULY 25: Lebanese activist Georges Ibrahim Abdallah (C) arrives in Beirut after spending 41 years in French prisons, following his conviction in the 1980s over the assassination of an Israeli and an American diplomat and charges related to illegal weapons possession, on July 25, 2025, in Lebanon. Dozens of supporters gathered at Beirut’s Rafic Hariri International Airport entrance and near the VIP lounge to greet Abdallah, who was escorted through the arrivals area amid celebratory chants and applause. (Photo by Houssam Shbaro/Anadolu via Getty Images)
بیروت : لبنان کی مسیحی آبادی سے تعلق رکھنے والے جارج ابراہیم عبد اللہ کو فلسطین کے حق میں مزاحمت کرنے کے لئے فرانس نے 41 سال قبل جیل بھیجا تھا جنکو اب رہا کر دیا گیا اور وہ لبنان واپس پہنچ گئے۔ انکا تعلق ایک کیمونسٹ جماعت سے ہے۔ بتیس سال کی عمر میں گرفتار ہونے والے جارج عبد اللہ ایک فلسطینی جماعت کے رکن تھے اور اپنا گروہ بنا رکھا تھا جو مزاحمتی کاروائیاں کرتا تھا۔ان پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک امریکی اور ایک اسرائیلی سفارتکار کو قتل کیا تھا جسکی ذمہ داری انکے مسلح گروہ نے قبول کی۔ خود انہوں نے اس مزاحمتی کارروائیوں کی حمایت کی مگر خود یہ کام کرنے کو قبول نہیں کیا۔
رہا ہونے کے بعد لبنان پہنچنے پر انکا پرتباک استقبال کیا گیا۔


































