Wed Oct 14, 2026

ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری جرمنی میں پولینڈ کے اسٹارلنک سیٹلائٹ اسٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کے الزام میں متعدد امریکی شہری گرفتار خلیجی ممالک میں کشیدگی، لاہور ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں منسوخ لاہور کا دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلا نمبر پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس

روزانہ کی خبریں

جارج ابراہیم عبد اللہ کو 41 سال بعد فرانس کی جیل سے رہا کردیا گیا

BEIRUT, LEBANON – JULY 25: Lebanese activist Georges Ibrahim Abdallah (C) arrives in Beirut after spending 41 years in French prisons, following his conviction in the 1980s over the assassination of an Israeli and an American diplomat and charges related to illegal weapons possession, on July 25, 2025, in Lebanon. Dozens of supporters gathered at Beirut’s Rafic Hariri International Airport entrance and near the VIP lounge to greet Abdallah, who was escorted through the arrivals area amid celebratory chants and applause. (Photo by Houssam Shbaro/Anadolu via Getty Images)

بیروت : لبنان کی مسیحی آبادی سے تعلق رکھنے والے جارج ابراہیم عبد اللہ کو فلسطین کے حق میں مزاحمت کرنے کے لئے فرانس نے 41 سال قبل جیل بھیجا تھا جنکو اب رہا کر دیا گیا اور وہ لبنان واپس پہنچ گئے۔ انکا تعلق ایک کیمونسٹ جماعت سے ہے۔ بتیس سال کی عمر میں گرفتار ہونے والے جارج عبد اللہ ایک فلسطینی جماعت کے رکن تھے اور اپنا گروہ بنا رکھا تھا جو مزاحمتی کاروائیاں کرتا تھا۔ان پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک امریکی اور ایک اسرائیلی سفارتکار کو قتل کیا تھا جسکی ذمہ داری انکے مسلح گروہ نے قبول کی۔ خود انہوں نے اس مزاحمتی کارروائیوں کی حمایت کی مگر خود یہ کام کرنے کو قبول نہیں کیا۔
رہا ہونے کے بعد لبنان پہنچنے پر انکا پرتباک استقبال کیا گیا۔

مزید پڑھیے

Most Popular