
لندن : فیس بک کی ایک سابق عہدیدار فرانسس ہوگن نے اعتراف کیا کہ فیس بک کی مصنوعات بچوں اور جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہیں، فرانسس ہیوگن نے امریکی سینیٹ کمیٹی کے سامنے بیان میں کہا ہے کہ فیس بک کی انتظامیہ کو معلوم ہے کہ پلیٹ فارم کو کیسے محفوظ بنایا جا سکتا ہے لیکن وہ منافع کی غرض سے ایسا کرنے سے گریزاں ہے، فرانسس ہیوگن جو فیس بک کی سوک انٹیگرٹی شعبے میں پروڈکٹ مینیجر کے طور پر کام کر چکی ہے، انھوں نے پہلے خفیہ رہ کر امریکی ذرائع ابلاغ کے ساتھ فیس بک کی اندرونی معلومات شیئر کیں، اب وہ منظر عام پر آ چکی ہیں، ان کا کہنا ہے فیس بک کو معلوم ہو چکا ہے کہ لوگوں کے غصے کو ابھار کر ان کو اپنے پیچ پر زیادہ دیر تک روک سکتے ہیں جس کی وجہ سے ان کےمنافع میں اضافہ ہوتا ہے، یہ جانتے ہوئے کہ منافرت والے مواد کی تشہیر سے معاشروں کو نقصان پہنچ رہا ہے لیکن وہ منافع کمانے کے لیے اس کو جاری رکھے ہوئے ہیں، فرانس ہوگن کے انسٹاگرام کے بارے میں الزامات بہت سنگین ہیں، انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ فیس بک کی اپنی ریسرچ کے مطابق انسٹا گرام پلیٹ فارم نوجوانوں کی ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کر رہا ہے، انھوں نے بتایا کہ فیس بک کی اپنی ریسرچ کے مطابق بیس برس سے کم عمر کی 13 فیصد لڑکیوں نے کہا ہے کہ انسٹاگرام کو استعمال کرنے کی وجہ سے ان میں خود کشی کے رجحانات جنم لیتے ہیں، اس بارے بہت ریسرچ موجود ہے کہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز نوجوانوں میں ذہنی دباؤ کی ایک وجہ ہیں، انسٹا گرام پر جہاں لوگ اپنی تصاویر پوسٹ کرتے ہیں اس سے لوگوں میں اپنی جسامت کے حوالے منفی خیالات جنم لیتے ہیں، انھوں نے بتایا کے فیس بک میں کام کرنے کے دوران انھوں نے بارہا منافع اور صارفین کی حفاظت میں چپقلش دیکھی اور فیس بک نے ہمیشہ اپنے مالی منافع کو ترجیح دی، تاہم فیس بک کا کہنا ہے کہ فرانسس ہیوگن جن موضوعات پر بات کر رہی ہیں، انھیں ان چیزوں کا پتا ہی نہیں ہے،فیس بک دنیا کا سب سے بڑا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے اور کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کے ماہانہ سرگرم صارفین کی تعداد 2.7 ارب ہے۔ کروڑوں لوگ ان کے دیگر پلیٹ فارم وٹس ایپ اور انسٹاگرام بھی استعمال کرتے ہیں۔


































