
کابل: افغانستان کے دارالحکومت کابل میں محرم کے ماتمی جلوس کے درمیان دھماکے میں 8 افراد شہید اور 18زخمی ہوگئے۔ پولیس کے ترجمان خالد زدران نے صحافیوں کو بتایا کہ دھماکا اس وقت ہوا جب افغانستان میں اہل تشیع برادری کے لوگ محرم کی یاد منا رہے تھے۔ سیکیورٹی ٹیمیں مجرموں کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ خالد زدران نے کہا کہ دھماکا خیز مواد سبزیوں سے لدے ایک ٹھیلے میں نصب تھا جسے ایک ایسے علاقے میں کھڑا کیا گیا تھا جہاں سے مقامی افراد روزانہ کھانے پینے کی اشیا خریدتے تھے۔ یہ دھماکا عاشورہ سے چند روز قبل مغربی کابل کے ایک محلے میں ہوا جہاں زیادہ تر ہزارہ برادری کے لوگ آباد ہیں۔ حکومتی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے شہادتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ بم دھماکا ان لوگوں کا کام تھا جو اسلام اور ملک کے دشمن ہیں۔ دھماکے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی ہے۔


































