
FILE PHOTO: Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu sits in the Knesset, Israel’s parliament, next to Defense Minister Israel Katz and National Security Minister Itamar Ben-Gvir on the day of a vote over possible expulsion of Ayman Odeh from parliament, in Jerusalem, July 14, 2025. REUTERS/Ronen Zvulun/File Photo
تل ابیب : غزہ میں جنگ بندی کیلئے جزوی معاہدہ پر نیتن یاھو حکومت میں اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ نیتن یاھو کو اپنی حکومت میں دائیں بازو کے سخت گیر وزراء کی شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ ان میں وزیر خزانہ بزالیل اسموٹریچ اور وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر شامل ہیں۔ انتہا پسند وزرا کسی بھی جزوی سمجھوتے کو قیادت کی کمزوری قرار دیتے ہیں۔ اسموٹریچ نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ آدھے راستے میں رکنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ بن گویر نے بھی عارضی یا جزوی حل کو مسترد کرتے ہوئے اسی مؤقف کو دہرایا۔ وزیر برائے آبادکاری اوریٹ اسٹروک نے ایکس پر لکھا کہ جزوی معاہدوں کے دن گزر گئے ہیں۔ ایسے معاہدے بڑے نقصانات کے سوا کچھ نہیں لاتے۔
وزیر خارجہ جدعون ساعر اور اریئل درعی نے جزوی معاہدے پر بات چیت میں لچک دکھائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے کم از کم آدھے اسرائیلی قیدی رہا ہو سکتے ہیں.


































