
انقرہ: ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان چار سال بعد سفارتی تعلقات مکمل بحال ہوگئے۔ اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان تعلقات میں بہتری کا آغاز دو سال قبل ہوا تھا۔ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے دورے کیے اور سفیروں کے ناموں کا اعلان کیا تاہم ان کی تعیناتی میں مزید دو سال لگ گئے۔ جنوری 2021 سے انقرہ میں بطور چارج ڈی افیئرز تعینات ایرٹ لی لیان نے باقاعدہ سفیر کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں ۔ انہوں نے ترک صدر طیب اردوان سے ملاقات میں اپنی سفارتی اسناد پیش کیں جنہیں قبول کرلیا گیا۔ طیب اردوان نے اسرائیل کی نئی سفیر ایرٹ لی لیان سے ملاقات کی اور دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا۔2010 میں غزہ جانے والے امدادی جہاز فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی فوج نے حملہ کیا تھا جس میں 10 ترک شہری جاں بحق ہوگئے تھے۔ اس واقعے پر ترکیہ نے اسرائیل کے سفیر کو ملک بدر کر دیا تھا۔ 2016 میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہوئے تھے لیکن صرف دو سال بعد ہی 2018 میں فلسطینی مظاہرین پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ہلاکتوں پر ایک بار پھر ترکیہ نے اسرائیلی ایلچی کو ملک بدر کرکے اپنا سفیر واپس بلالیا تھا۔

































