
پاراچنار : کرم ضلع کے علاقے پاراچنار میں پانچویں روز بھی شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ گذشتہ رات تری مینگل، پیواڑ، بوشہرہ اور پاڑہ چمکنی میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اطلاعات کے مطابق گذشتہ رات 2 مومنین شہید اور 15 زخمی ہوئے۔ جبکہ حملہ آور طالبان کے بھاری جانی نقصان کی اطلاع ہے۔ غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق پچاس سے زیادہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔ حملہ آور مبینہ طور پر لاشوں کے ساتھ افغانستان فرار ہوگئے ہیں۔ قبائیلی جرگہ آج علاقے میں پہنچ رہا ہے اور جنگ بندی کی کوشش کرے گا۔ خیبر پختونخوا حکومت نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 245 کے تحت سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج اور ایف سی کی اضافی نفری طلب کر لی ہے۔ محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا کے ترجمان کے مطابق دندارسہرہ اور بوشہرہ میں جھڑپوں کے فوراً بعد ضلعی انتظامیہ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے عمائدین نے جنگ بندی پر زور دیا اور دونوں فریقوں کے ساتھ بات چیت شروع کی۔ حلقہ کرم این اے 45 کے سابق امیدوار شاہد خان بنگش نے بتایا کہ جنگ کی وجہ سے اپر کرم کے چار گاؤں بہت متاثر ہو چکے ہیں جبکہ لوئر کرم میں جرگے کی مدد سے جنگ بندی کر دی گئی ہے۔ علاقے میں جھڑپوں کی وجہ سے ہزاروں طلبا اور مسافر روڈ بندش کی وجہ سے مختلف علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ علاقے میں جھڑپوں کا آغاز سات جولائی کو ہوا تھا۔


































