
جنیوا : بچوں کی فلاح کے لئے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے کہا ہے کہ غزہ میں دو سال سے جاری جنگ میں سب سے بھاری قیمت معصوم بچوں نے چکائی ہے۔
یونیسیف کے ترجمان ریکارڈو پیریس نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی بریفنگ کے دوران بتایا کہ غزہ میں ہر سترہ منٹ میں ایک بچہ شہید یا معذور ہو رہا ہے، جبکہ ہزاروں بچے صدمے، یتیمی اور بار بار بےگھری کا شکار ہیں۔ انہوں نے ایسے مناظر دیکھے ہیں جو کسی بچے کو نہیں دیکھنے چاہییں۔ یونیسیف ترجمان نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کے غیر متناسب حملوں نے بچوں کو جسمانی اور ذہنی طور پر ناقابلِ بیان تکالیف میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب غزہ میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ قبل از وقت پیدا ہو رہا ہے اور بچے آکسیجن ماسک آپس میں بانٹنے پر مجبور ہیں۔
ترجمان نے خبردار کیا کہ دو ماہ میں دس ہزار سے زائد بچوں میں شدید غذائی قلت پائی گئی ہے، جن میں سے ڈھائی ہزار بچے انتہائی خطرناک حالت میں ہیں۔ انہوں نے فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔


































