
ڈھاکا: بنگلہ دیش کے جنوبی علاقے چٹاگانگ ہل ٹریکٹس میں نسلی فسادات میں سات افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔ چٹاگانگ ہل ٹریکٹس بھارت اور میانمار کی سرحدوں سے متصل پہاڑی علاقہ ہے جہاں ایک بنگالی شہری کے قتل کے بعد پُرتشدد فسادات پھیل گئے اور ہجوم نے کئی گھروں۔ دکانوں اور بدھ مت کی عبادت گاہوں کو آگ لگا دی۔ حملوں کی زد میں آنے والی بیشتر املاک بودھ مت کمیونٹی سے تعلق رکھنے والوں کی ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق بودھ مت کے مانیوالوں کیخلاف ہجوم کو اکسانے کے لیے مقامی مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز استعمال کیے گئے ہیں۔ حملوں کے بعد تین اضلاع رنگامتی، بندربان اور خاغراچاری میں طلبہ کی قیادت میں نسلی گروہ نے سڑکوں اور آبی گزرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ پُرتشدد واقعات کے بعد کئی اقلیتی خاندان بے گھر ہو گئے ہیں اور وہ خوف میں مبتلا ہیں۔ کئی خاندان اپنے جلتے ہوئے گھر اور کاروبار کو چھوڑ کر علاقے سے نکل گئے ہیں۔ فوج، پولیس اور سرحدی فورسز کی پیٹرولنگ کے باوجود علاقہ مکین تشویش کا شکار ہیں۔


































