
برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ پر مشتمل گروپ برکس نے ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حملوں کی مذمت کی ہے۔ برکس کا دو روزہ اجلاس برازیل کے شہر ریو ڈی جنیریو میں ہوا جس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تیرہ جون کے بعد ایران پر حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی تھے۔ اجلاس میں امریکا یا اسرائیل کا نام لئے بغیر ایران کی جوہری تنصیبات پر فوجی حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔ برکس نے غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا بھی مطالبہ کیا۔ اعلامیہ میں برکس ممالک نے غزہ کی پٹی اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے تمام دیگر مقامات سے اسرائیلی فوجی کی واپسی کا بھی مطالبہ کیا۔ اعلامیہ میں غزہ کو مقبوضہ فلسطینی علاقے کا ناقابلِ تقسیم حصہ قرار دیتے ہوئے زور دیا گیا ہے کہ مغربی کنارے اور غزہ کو فلسطینی اتھارٹی کے تحت یکجا کیا جائے۔ اعلامیے میں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، بشمول آزاد ریاستِ فلسطین کے قیام کے حق کو ایک بار پھر تسلیم کیا گیا۔ رکن ممالک نے اسرائیل کے جاری حملوں اور انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قحط کو بطورِ جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی شدید مذمت کی۔
برکس ممالک نے کہا کہ ہم تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ فوری، مستقل اور غیر مشروط جنگ بندی کے لیے مذاکرات کریں۔


































