
نیویارک: اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے کہاہےکہ غزہ پر دو سال سے جاری اسرائیلی بمباری فلسطینی بچوں کے لیے روزانہ کی خوفناک حقیقت بن چکی ہے۔ یونیسیف کے علاقائی ڈائریکٹر عمار نے کہا کہ گیارہ لاکھ بچے، روزانہ اموات اور زخمی دیکھ دیکھ کر گہرے نفسیاتی صدمے سے دوچار ہیں۔ انہوں نےکہا کہ ہم غزہ میں جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ صرف بچوں کیخلاف جنگ نہیں ہے بلکہ یہ خود زندگی کی تباہی ہے۔
انہوں نے بڑے پیمانے پر بھوک، جبری نقل مکانی اور اسکولوں، اسپتالوں اور گھروں پر حملوں کو تباہی کی ایک منظم مہم قرار دیا۔
یونیسیف کے ترجمان ٹیس انگرام نے بھی کہا کہ حملے اکثر رات کے وقت ہوتے ہیں جب بچے سو رہے ہوتے ہیں اور بھاگنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تک اٹھارہ ہزار سے زیادہ بچے شہید اور ہزاروں یتیم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غذائیت کی شرح تباہ کن سطح تک پہنچ چکی ہے۔ اب ہر چار میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے۔


































