
اسلام آباد: امریکی سینیٹ میں پیش کئے گئے بل پر پاکستان کے ترجمان دفترخارجہ عاصم افتخار نے رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی سینیٹ میں مسودہ قانون میں پاکستان کے بارے میں جو باتیں کہی گئی ہیں وہ مکمل طور پر بلاجواز ہیں اور تمام حوالہ جات پاک، امریکہ تعاون کی روح کے منافی ہیں۔ عاصم افتخار کا کہنا ہے کہ کیپیٹل ہل پر امریکی انخلا پربحث دیکھی، امریکی سینیٹ میں ریپبلکنز کے گروپ کا پیش کردہ مسودہ قانون اسی بحث کا رد عمل لگتا ہے۔
پاکستان کے ترجمان دفترخارجہ کے مطابق مسودہ قانون میں پاکستان کے بارے میں تمام حوالہ جات مکمل طور پر بلاجواز ہیں، پاکستان نے 2001ء سے افغانستان پر امریکہ کے ساتھ مسلسل تعاون کیا۔ پاکستان نے افغان امن عمل میں سہولت، افغانستان سے امریکہ سمیت غیرملکی انخلاء میں مدد کی۔ عاصم افتخار کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستان نے متواتر کہا کہ افغان تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں، بل کی صورت ایسا جبری نقطہ نظر کسی صورت معاون نہیں، افغانستان میں طویل مدتی پائیدار امن کا واحد حل مل بیٹھنا اور مذاکرات ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی سینیٹ میں پیش کیے گئے بل میں طالبان حکومت سمیت ان کی مدد کرنے والے ممالک پر بھی پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔


































