
بیجنگ : امریکی صدر جو بائیڈن کا چار روزہ دورۂ مشرق وسطیٰ انجام کو پہنچا لیکن وہ خالی ہاتھ امریکا لوٹے کیونکہ ان کے دورے کے بیشتر مقاصد پورے نہیں ہو پائے جن میں علاقائی ممالک پر ایران کے آگے بند باندھنے کیلئے دباؤ ڈالنا اور روس کی آمدنی کو کم کرنے کیلئے تیل کی پیداوار بڑھانا شامل تھے تاہم امریکی صدر کو صرف یقین دہانیاں ہی ملیں۔ چینی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس دورے کے بعد ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ خطے سے امریکی اثرو رسوخ کم ہو رہا ہے اور بائیڈن کے خالی ہاتھ لوٹنے کی وجہ بھی یہی ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے ممالک کو متعدد مرتبہ چین اور روس سے لاحق خطرے کی بات بتانے کی وجہ سے پہلے ہی تنازع میں گھرے ہوئے خطے کے ممالک کو احساس ہوا ہے کہ انہیں امریکا سے پہلے سے زیادہ خطرہ درپیش ہے۔ امریکا خود تیل کے بحران میں پھنسا ہے اور ایسے میں مشرق وسطیٰ کے ممالک کو تیل کی پیداوار بڑھانے کے مطالبات پیش کرنے سے امریکا کی خود غرضی اور منافقت سامنے آئی ہے۔ چینی محققین کے مطابق، بائیڈن کا مشرق وسطیٰ کا دورہ نہ صرف بیکار رہا بلکہ امریکی صدر کو ہزیمت کا سامنا بھی کرنا پڑا کیونکہ ان کی حکومت کے دو سب سے بڑے مقاصد پورے نہیں ہو پائے ان میں سے خطے میں ایران کے بڑھتے اثر رسوخ کو ورکنا اور سعودی عرب سے تیل کی پیدوار بڑھانا شامل ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز ایٹ چائنیز فارن افیئرز یونیورسٹی بیجنگ کے پروفیسر کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کا کوئی کام پورا نہیں ہوا۔


































