
برسلز : بیلجیئم کی پارلیمنٹ نے ایران کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی حمایت کردی۔ پارلیمنٹ کے131 ارکان میں سے 79 نے قانون کے حق میں ووٹ دیا، 41 نے مخالفت کی اور 11 ارکان غیر حاضر رہے۔ قانون کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ دونوں ممالک میں ان کا ایک ایک شہری قید ہے۔ ایک ایرانی سفارتکار بیلجیئم کی قید میں ہے جسے گزشتہ سال مبینہ طور پر پیرس میں ایرانی اپوزیشن کے خلاف بم دھماکے میں ملوث ہونے کی بناء پر 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ دوسری جانب ایرانی حکومت نے اس سال فروری میں ایک بیلجیئن این جی او کے ملازم کو گرفتار کر لیا تھا۔ میڈیا کے مطابق اس معاہدے پر بہت سے سول حلقوں کو تحفظات ہیں لیکن وزیراعظم الیگزینڈر دی کرو اور وزیر انصاف کے مطابق اپنے ایک عام شہری کو بچانے کے لیے یہ برا سودا نہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امید ہے اس قانون کی منظوری کے بعد دونوں قیدیوں کا تبادلہ ممکن ہوسکے گا۔


































