Tue Oct 20, 2026

فرانس میں بدترین ہنگامے: صدر ایمانوئل کی حکومت شدید سیاسی بحران سے دوچار حوثیوں کے حملے: سعودیہ اور امارات کا قریبی روابط اور مشترکہ تعاون بڑھانے پر زور سینیٹ ارکان کو لائف ٹائم بلیو پاسپورٹ دینے کا بل منظور متحدہ عرب امارات اور فرانس کا سمندری سلامتی کیلئے تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق امریکی کارروائی کے نتیجے میں دنیا کو توانائی کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑے گا، پاسداران انقلاب روس ایران کے ساتھ تعاون ترک نہیں کرے گا، روسی وزیر خارجہ مشرقی وسطیٰ میں امریکی شہریوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت قطر کا نئی علاقائی دفاعی شراکت داری کا اعلان یمن کے صوبے شبوہ میں فوجی کیمپ پر حملہ، سعودی نواز ملیشیا کے 53 افراد ہلاک، 200 زخمی ایرانی تنصیبات پر حملہ ہوا تو 9 ممالک کی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے، مشیر ولی امر مسلمین یورپ پرتشدد مظاہروں کی لپیٹ میں آگیا، فرانس، اٹلی، البانیہ، پرتگال میں جلاؤ گھیراؤ آبنائے ہرمز میں ایک اور جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا یمن پر سعودی جنگی طیاروں کے حملے، یمنی فوج کا نجران پر جوابی میزائل حملہ شرائط پوری ہو جائیں تو آبنائے ہرمز ایک ہفتے میں کھل جائے گی، عراقچی بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، بم دھماکے سے میجر شہید، 4 دہشت گرد ہلاک

روزانہ کی خبریں

بنگلہ دیش : طلبہ کا فوجی حکومت قبول کرنے سے انکار، عبوری حکومت کا خاکہ پیش

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے خلاف احتجاج کرنے والی طلبہ تحریک کے رہنما نے ملک میں فوجی حکومت قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، ساتھ ہی ڈاکٹر یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت کا خاکہ بھی جاری کردیا گیا۔
طلبہ تحریک کے رہنما ناہید اسلام نے کہا ہے کہ ہمیں بنگلہ دیش میں فوج کی حمایت یافتہ حکومت قبول نہیں ہے، ملک میں عبوری حکومت بنانی ہے تو اس کا خاکہ ہم دیں گے۔ طلبہ تحریک کے رہنما ناہید اسلام، آصف محمود اور ابوبکرمازوم دار نے ویڈیو پیغام کے ذریعے عبوری حکومت کا خاکہ جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کے زیر سربراہی عبوری حکومت قائم کی جائے۔
ناہید اسلام نے کہا کہ طلبہ پہلے ہی ڈاکٹر یونس سے بات کرچکے ہیں اور وہ عبوری حکومت میں کردار پر آمادگی ظاہر کرچکے ہیں، دیگر نام آج دیے جائیں گے.
طلبہ تحریک کے رہنما ناہید اسلام نے کہا کہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت اگلے 24 گھنٹوں میں قائم کردی جائے گی ، ہمیں متحد رہنا ہے اور مذہبی اشتعال انگیزی اور تقسیم سے بچنا ہے ، مظاہرین کو یہ سلسلہ روک دینا چاہیے۔
دوسری جانب ڈاکٹر محمد یونس نے اپنے بیان میں کہا کہ شیخ حسینہ واجد نے شیخ مجیب الرحمان کی میراث تباہ کردی تھی، بنگلہ دیش اب آزاد ہوگیا ہے۔
ادھر امریکہ نے بنگلہ دیش کی تازہ ترین صورتحال پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ پرتشدد اقدامات سے گریز کریں۔
ملک میں اتوار تک پرتشدد مظاہروں میں 300 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد حسینہ واجد نے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا تھا اور آرمی چیف قمرالزمان نے ملک میں عبوری حکومت کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ پیر کو بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے فوجی قیادت سے ملاقات میں مختلف سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی پر مشتمل عبوری حکومت قائم کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ اس سلسلے میں فوج سے کہا گیا تھا کہ وہ جاری لوٹ مار بند کرائے اور قانون کی بلادستی بحال کرائی جائے۔
آرمی چیف وقار الزمان نے بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے افراد سے ملاقاتیں بھی کی تھیں اور عبوری حکومت جلد قائم ہونے کا عندیہ دیا تھا، وہ طلبہ اور اساتذہ سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔
ادھر بھارتی میڈیا کے مطابق بنگلہ دیش کی مستعفی وزیراعظم نے برطانیہ سے سیاسی پناہ کی درخواست کردی ہے جبکہ ان کی بہن شیخ ریحانہ کے پاس پہلے ہی سے برطانیہ کی شہریت ہے، دونوں بہنیں اس وقت بھارت میں ہیں۔
بنگلہ دیش میں 1971 کی جنگ لڑنے والوں کے بچوں کو سرکاری نوکریوں میں 30 فیصد کوٹہ دیے جانے کے خلاف گزشتہ ماہ کئی روز تک مظاہرے ہوئے تھے جن میں 300 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد سپریم کورٹ نے کوٹہ سسٹم کو ختم کردیا تھا۔

مزید پڑھیے

Most Popular