
A picture shows a view of the Israeli settlement of Givat Zeev, near the Palestinian city of Ramallah in the occupied West Bank, on November 19, 2019. Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu said a US statement deeming Israeli settlement not to be illegal "rights a historical wrong”. But the Palestinian Authority decried the US policy shift as "completely against international law”. Both sides were responding to an announcement by US Secretary of State Mike Pompeo saying that Washington "no longer considers Israeli settlements to be "inconsistent with international law”. (Photo by AHMAD GHARABLI / AFP)
تل ابیب : اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزلیل اسموٹرچ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی صیہونی آبادکاری کے بڑے سرکاری منصوبے کا اعلان کردیا۔
اسرائیلی منصوبے کے تحت آئندہ پانچ برس میں دو اعشاریہ سات ارب شیکل کی سرمایہ کاری سے سترہ نئی کالونیاں قائم کی جائیں گی جبکہ درجنوں موجودہ غیرقانونی صیہونی بستیوں کو توسیع دی جائے گی۔ ایک اعشاریہ ایک ارب شیکل ان کالونیوں کو مضبوط کرنے اور نئی بستیاں بنانے پر خرچ ہوں گے۔ حکومت چار سو چونتیس ملین شیکل موجودہ کالونیوں کے انفراسٹرکچر کی بحالی، تین سو ملین شیکل کالونی کونسلوں کی معاونت اور ایک سو چالیس ملین شیکل سکیورٹی روڈ بلاکس کے لیے خرچ کرے گی۔ اگلے تین برسوں میں ڈیڑھ سو ملین شیکل بسوں کی حفاظتی اقدامات پر بھی لگائے جائیں گے۔


































