
واشنگٹن : امریکا نے ایک بار پھر افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرنے سے انکار کردیا. افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے تھامس ویسٹ نے کہا کہ جو بائیڈن انتظامیہ جلد ہی امریکا میں موجود افغان حکومت کے اربوں ڈالر کے اثاثوں کو جاری کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ انہوں نے افغان سینٹرل بینک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں یقین نہیں ہے کہ اس ادارے کے پاس اثاثوں کا ذمہ داری سے انتظام کرنے کے لیے حفاظتی انتظامات اور نگرانی موجود ہے۔ امریکی حکام نے یہ رقم جاری کرنے کا خیال اس وقت ترک کر دیا تھا جب یہ انکشاف ہوا تھا کہ القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری گزشتہ ماہ ڈرون حملے میں مارے جانے تک بظاہر طالبان کے تحفظ کے ساتھ کابل کے قلب میں رہ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو طالبان کی جانب سے پناہ دینے سے دہشت گرد گروپوں کو فنڈز کی منتقلی کے حوالے سے ہمارے گہرے خدشات کو تقویت ملتی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے قبل ازیں کہا تھا کہ امریکا کا افغانستان کے طالبان کے زیر کنٹرول مرکزی بینک کو 3.5 ارب ڈالر کی منجمد رقوم جاری کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔


































