
لاہور : پاکستان کی معروف مذہبی شخصیت مولانا طارق جمیل کا کہنا ہے کہ ہماری تبلیغ کا ایک اصول ہے کہ ہم مذمت اور منفی بات نہیں مثبت بات کرتے ہیں، کسی کو برا نہیں کہتے اچھائی کو بیان کرتے ہیں، اچھائی اتنی بیان کریں کہ برائی اسی میں دب جائے، بی بی سی سے انٹرویو میں مولانا طارق جمیل نے کہا کہ میرے نزدیک سب سے بڑا مسئلہ اللہ سے دوری ہے اور اللہ کے بندوں کی رائے کو ختم کر دینا اسی دوری کا نتیجہ ہے، میرے تو سارے بیان ہی حقوق العباد پر ہوتے ہیں، میں حقوق اللہ کو بھی بیان کرتا ہوں لیکن جتنا اللہ نے بیان کیا ہے، اور حقوق العباد کو بھی اتنا ہی بیان کرتا ہوں جتنا اللہ نے بیان کیا ہے، اللہ نے حقوق العباد کو پھیلا کر بیان کیا ہے، اللہ نے اپنے حقوق مختصر بیان کیے ہیں، جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے اندازِ خطابت میں افسانوی انداز کیوں اپناتے ہیں تو طارق جمیل کا کہنا تھا کہ اللہ قرآن میں نصیحت کو کہانی کے انداز میں بیان کرتا ہے، حضرت موسیٰ کا قصہ سناتا ہے اس میں نصیحت ہے، ذوالقرنین کی کہانی سناتا ہے اس میں نصیحت ہوتی ہے، اصحاب کہف کی کہانی سناتا ہے اس میں نصیحت ہوتی ہے، لہٰذا کہانی کے انداز میں چیز انسان کے دل و دماغ میں اترتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ تیس برس سےانھوں نے معاشرے میں انسانیت کو ابھارنے کی کوشش کی ہے اور انسانی حقوق کو اجاگر کیا ہے، یہ تاثر درست نہیں کہ وہ ملک میں ایک بڑا حلقۂ اثر رکھنے کے باوجود خواتین کے حقوق، لاپتہ افراد یا اظہارِ آزادی رائے جیسے معاملات پر بات نہیں کرتے اور ان معاملات پر اپنے معتقدین کی راہنمائی کرنے سے گریزاں ہیں۔


































