Wed Oct 14, 2026

ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری جرمنی میں پولینڈ کے اسٹارلنک سیٹلائٹ اسٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کے الزام میں متعدد امریکی شہری گرفتار خلیجی ممالک میں کشیدگی، لاہور ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں منسوخ لاہور کا دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلا نمبر پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس

روزانہ کی خبریں

ہمیشہ معاشرے میں انسانیت کو ابھارنے کی کوشش کی، مولانا طارق جمیل

لاہور : پاکستان کی معروف مذہبی شخصیت مولانا طارق جمیل کا کہنا ہے کہ ہماری تبلیغ کا ایک اصول ہے کہ ہم مذمت اور منفی بات نہیں مثبت بات کرتے ہیں، کسی کو برا نہیں کہتے اچھائی کو بیان کرتے ہیں، اچھائی اتنی بیان کریں کہ برائی اسی میں دب جائے، بی بی سی سے انٹرویو میں مولانا طارق جمیل نے کہا کہ میرے نزدیک سب سے بڑا مسئلہ اللہ سے دوری ہے اور اللہ کے بندوں کی رائے کو ختم کر دینا اسی دوری کا نتیجہ ہے، میرے تو سارے بیان ہی حقوق العباد پر ہوتے ہیں، میں حقوق اللہ کو بھی بیان کرتا ہوں لیکن جتنا اللہ نے بیان کیا ہے، اور حقوق العباد کو بھی اتنا ہی بیان کرتا ہوں جتنا اللہ نے بیان کیا ہے، اللہ نے حقوق العباد کو پھیلا کر بیان کیا ہے، اللہ نے اپنے حقوق مختصر بیان کیے ہیں، جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے اندازِ خطابت میں افسانوی انداز کیوں اپناتے ہیں تو طارق جمیل کا کہنا تھا کہ اللہ قرآن میں نصیحت کو کہانی کے انداز میں بیان کرتا ہے، حضرت موسیٰ کا قصہ سناتا ہے اس میں نصیحت ہے، ذوالقرنین کی کہانی سناتا ہے اس میں نصیحت ہوتی ہے، اصحاب کہف کی کہانی سناتا ہے اس میں نصیحت ہوتی ہے، لہٰذا کہانی کے انداز میں چیز انسان کے دل و دماغ میں اترتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ تیس برس سےانھوں نے معاشرے میں انسانیت کو ابھارنے کی کوشش کی ہے اور انسانی حقوق کو اجاگر کیا ہے، یہ تاثر درست نہیں کہ وہ ملک میں ایک بڑا حلقۂ اثر رکھنے کے باوجود خواتین کے حقوق، لاپتہ افراد یا اظہارِ آزادی رائے جیسے معاملات پر بات نہیں کرتے اور ان معاملات پر اپنے معتقدین کی راہنمائی کرنے سے گریزاں ہیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular