
کراچی : علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا ہے کہ افغانستان کے معاملے پر منفی باتوں سے گریز کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ طالبان اپنے قول کو عمل سے کس حد تک درست ثابت کرتے ہیں، نشترپارک کراچی میں نویں محرم الحرام کی مجلس سے خطاب میں علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ اگرافغانستان کے تمام طبقے،اقوام اورمذہبی اقلیتیں نئے حالات سے مطمئن ہیں تو پھر ہمیں اس پر منفی طرز عمل پیش کرنے کی ضرورت نہیں، انہوں نے حکومت سے زائرین کے مسائل حل کرنے، لاپتہ افرادکی رہائی، اسلامی نظریاتی کونسل سمیت تمام قومی اداروں میں شیعہ افرادکو ان کی آبادی کے مطابق نمائندگی دینے کے مطالبات کئے،انہوں نے صاحب ثروت افراد سے اپیل کی کہ وہ سامنے آئیں اور بحری راستے سے زائرین کے سفرکیلئے خود اہتمام کریں،علامہ شہنشاہ نققوی نے حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے یکساں نصاب کو فرقہ وارانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا، انہوں نے علمائے کرام پر پابندی، شریف لوگوں کے نام فورتھ شیڈول میں ڈالنے اور مجالس عزا اور جلوسوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اس سلسلے کو فوری روک دینے پر زور دیا، انہوں نے کہا کہ صورتحال سے متعلق قومی ادارے خود بھی ہم آہنگ نہیں وفاقی وزیرداخلہ ایک عالم کی تعریف کرتا ہے اورصوبائی حکومت اس کے خطاب پر پابندی لگادیتی ہے۔


































