
برسلز: یورپی کمیشن کے محققین نے خبردار کیا ہے کہ یورپی یونین کے بیشتر علاقوں میں خشک سالی 16ویں صدی کے بعد سے بدترین سطح پر پہنچ گئی۔ یورپی کمیشن کی جوائنٹ ریسرچ کونسل کے ایک سینیر محقق آندریا ٹوریٹی نے کہا کہ ابھی یہ 500 سالوں میں بدترین سال دکھائی دے رہا ہے اور یہ 2018 کے مقابلے میں بھی بدتر ہے۔ گذشتہ 500 سالوں کی فہرست کو دیکھیں، چار سال پہلے گرم اور خشک موسم کی شدت سے ملتے جلتے کوئی اور واقعات نہیں ہوئے۔انہوں نے وضاحت کی کہ اس سال خاص طور پر خشک اور گرم موسم نے وسطی اور شمالی یورپ متاثر کیا جس میں بڑی فصلوں کی پیداوار میں 50 فیصد تک کمی واقع ہوئی، لیکن جنوبی یورپ میں مرطوب حالات نے زیادہ پیداوار دیکھی ۔ اس سال اس کے برعکس یورپ کا بیشتر حصہ گرمی کی لہروں اور خشک موسم کا شکار ہے۔ خشک سالی سے خوراک کی پیداوار، توانائی، پینے کے پانی اور جنگلی حیات متاثر ہو رہی ہیں۔


































