
غزہ: امدادی سامان سے لدے دس ٹرکوں کا ایک اور قافلہ غزہ میں داخل ہوگیا۔ امدادی سامان میں پانی۔ خوراک اور ادویات شامل ہیں۔ جبکہ 10 غیر ملکی ڈاکٹر بھی ساتھ ہیں۔ اُدھر اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے ادارے کے کوآرڈینیٹر لین ہیسٹنگز نے کہا ہے کہ اسرائیل واضح طور پر شمالی غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کی مخالفت کررہا ہے۔ جہاں مسلسل بمباری کے دوران لاکھوں شہری پھنسے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حکومت نہیں چاہتی کہ ہم شمال میں امداد فراہم کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر غزہ کی ناکہ بندی جاری رہی تو مزید لوگ مرجائیں گے۔ فلسطینی سرزمین میں بنیادی سہولیات تباہ ہو رہی ہیں۔ ادویات، خوراک اور پانی ختم ہو رہا ہے، غزہ کی گلیاں سیوریج سے بھرنے لگی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں انسانی اور صحت کا بحران تباہ کن حد کو چھو رہا ہے۔ جان بچانے والی امداد کی غزہ تک بلا رکاوٹ رسائی ہونی چاہیے۔ ہر گزرتا لمحہ بے حساب جانوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے، دنیا کو جان بچانے کے ہمارے مشن میں مزید رکاوٹوں کو برداشت نہیں کرنا چاہیے۔ عالمی امدادی اداروں کی دہائیوں کے باوجود غزہ میں ایندھن اب تک نہیں پہنچا۔


































