سعودی حملوں میں 20لاکھ طلبا نشانہ بنے،سیکڑوں زچہ وبچہ مراکز بند ہوگئے
صنعا(نیوز ڈیسک) یمنی انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے اپنی تازہ رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ رواں سال 9 اکتوبر تک یمن پر سعودی بمباری میں کل 13 ہزار 73 یمنی خواتین و بچے شہید و زخمی ہو چکے ہیں ، بمباری سے 5 ہزار 183 یمنی خواتین اور 7 ہزار 891 یمنی بچے براہ راست نشانہ بنے، رپورٹ کے مطابق سرحدی محاصرے کے باعث بندرگاہ الحدیدہ پر ایندھن نہ پہنچنے کے باعث سینکڑوں زچہ و بچہ مراکز بند ہو چکے ہیں جس کے باعث یمنی خواتین و بچوں کو ایک عظیم المیے کا سامنا ہے ،تعلیمی اداروں اور طلبا کی گاڑیوں پر بلاواسطہ یا بالواسطہ حملوں میں یمن کے 20 لاکھ طلاب علم کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، رپورٹ میں دونوں فریقوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ نشانہ بنائی جانے والی یمنی خواتین و بچوں کی نفسیاتی مدد کے لئے فوری طور پر عملی اقدامات اٹھائیں۔
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- یمن میں رواں سال 13ہزار خواتین وبچے نشانہ بنے
یمن میں رواں سال 13ہزار خواتین وبچے نشانہ بنے
-
Ilyas - اکتوبر 16, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 22
- 0 minute read


































