| تحریر: شاہد عباس ہادی صیہونیت اور عالمی طاقتیں ہمیشہ سے اسلام اور انسانیت کیلئے زہر قاتل ثابت ہوئیں ہیں، مگر افسوس اسلام کے ماننے والے اور انسانیت کے رکھوالے ناصرف اس صورتحال پر خاموش ہیں بلکہ ان ظالمین کی حمایت اور مدد بھی کر رہے ہیں۔ یمن کی تاریخی اہمیت اور حالیہ صورتحال پر نظرثانی کریں تو بہت سارے شواہد مل جائیں گے کہ بلاشبہ یمن مسلمانوں کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یمن براعظم ایشیاءمیں جزیرہ عرب کے جنوب میں واقع ہے، جس کے شمال میں سعودی عرب اور مشرق میں عمان ہے، یعنی دونوں اطراف مسلمان ممالک ہیں۔ یمن میں شہر مہرب دنیا کا مشہور قدیمی شہر ہے، جو قدیم زمانے میں ملکہ سبائ، بلقیس اور دوسرے یمنی حکمرانوں کا دارالخلافہ اور ارض الجنتین (دو جنتوں کی زمین) سے مشہور تھا۔ مہرب کا پرانا ڈیم بھی اس ملک کے تاریخی عمارتوں میں سے ہے۔ یہ ڈیم حضرت عیسیٰ (ع) کی ولادت سے 500 سال پہلے بلق الایمن اور بلق الایسر نامی دو پہاڑوں کے درمیان عبدالشمس موسیٰ کے دور میں بنا ہے۔ حضرت سلیمان (ع) کا تخت بھی یمن میں تھا۔ یمن وہ واحد ملک ہے جو کسی جنگ کے بغیر پیغمبر کی طرف سے بھیجے گئے نمائندے، امیرالمو ¿منین حضرت علی علیہ السلام کے سامنے تسلیم ہوا اور اسلام قبول کیا۔ مسلمانوں کیلئے یمن کی اہمیت اس لحاظ سے بھی زیادہ ہے کہ یمن کے مغرب میں واقع بحیرہ احمر پر بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے، جو کہ مسلمانوں کے خلاف مفادات حاصل کرنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یمن میں گذشتہ عبداللہ صالح کی حکومت جو کہ 1978ءسے 2011ءتک لمبے عرصے پر مشتمل ہے، تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کے بعد عوام اور تنظیم انصاراللہ کی طرف سے مسلسل مظاہرے ہوتے رہے اور آخرکار فاسد نظام حکومت کو ختم کر دیا۔ اس کے بعد انصاراللہ یمن کے سیاسی میدان میں وارد ہونے کے بعد اس ملک کی نئی حکومت تشکیل پائی، جس کی ریاست خالد بحاح کے ذمہ تھی، لیکن حالات ایسے پیش آئے، جس کی وجہ سے خالد بحاح نے وزارت عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دیا اور منصور ہادی نے حکومت کی باگ دوڑ چلانے کی کوشش کی، مگر اس حرکت پر انصاراللہ حوثیوں نے عکس العمل دکھایا اور آخرکار منصور ہادی بھی سعودی عرب بھاگ گیا۔ تنظیم "انصاراللہ "یا "الحوثیون” کا مقصد ملک میں موجود سیاسی اور مالی کرپشن، بیرونی عالمی طاقتوں کی تسلط پسندانہ پالیسیوں کا مقابلہ کرنا تھا۔ اس تحریک کے آغاز کے بعد یمن میں موجود القاعدہ اور دوسرے تکفیری دہشت گرد گروہوں نے حکومت، سعودی عرب اور مغربی طاقتوں کی حمایت سے اسے کچلنا چاہا، لیکن ایسا نہ ہوسکا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ تحریک ملک بھر کے عوام میں حد درجہ مقبول ہوگئی۔ 26 مارچ 2015ءجمعرات کی صبح سعودی عرب نے یمن کے مستعفی صدر کی حمایت اور یمن میں انصاراللہ کی بڑھتی ہوئی قدرت کو بہانہ بنا کر اس ملک پر حملہ کیا جبکہ درحقیقت انصاراللہ سے یہودی و صہیونی اور عالمی طاقتوں کو خطرہ تھا، کیونکہ انصاراللہ ہی واحد تنظیم تھی جو عالمی طاقتوں کے مدمقابل آئی اور ان کی تسلط پسندانہ پالیسیوں کا راستہ روکا۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے نیتن یاہو 2016ءمیں یہی بیانیہ دیتے نظر آتے ہیں کہ فلسطین و یمن ہمارا حصہ ہے اور ہم اسے جبراً حاصل کریں گے۔ پھر آل سعود اور اس کے اتحادیوں (اسرائیل و امریکہ) کی واضح طور پر انصاراللہ سے جھڑپیں ہوتی رہیں، لیکن آل سعود سمیت عالمی طاقتیں یمنی انصاراللہ کے سامنے ناکام رہیں۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک (امریکہ و اسرائیل) کی ہوائی، زمینی اور سمندری/دریائی حملوں نے یمن کو بہت بڑے نقصان سے دوچار کیا اور یمن کو ویرانے میں تبدیل کر دیا۔ جس کا خمیازہ یمنی عوام آج بھی بھگت رہی ہے۔ یمن پر 2015ءسے لے کر اب تک سعودی و یہودی مظالم کا تذکرہ کریں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اتنی مظلومت کہ یمن براہ راست عالمی طاقتوں کے حصار میں ہو اور پاکستان جیسے مسلمان ممالک اور میڈیا اس مظلومیت کی آواز نہ بن سکیں، آخر ایسا کیوں؟ کیا آل سعود کے مظالم ظلم میں شامل نہیں؟ کیا اسلامی تعلیمات میں آل سعود کو استثنائی طور پر اس قدر ظلم و بربریت کرنے کی اجازت ملی ہوئی ہے؟ کیا آل سعود نے یہود و کفار کے اشاروں پر جنگ مسلط نہیں کر رکھی؟ کیا آل سعود کو خطرہ صرف یمن کے مسلمانوں سے ہے؟ کیا آل سعود کو امریکہ و اسرائیل سے کوئی خطرہ نہیں؟ یہ سوالات تاریخی لحاظ سے اہمیت رکھتے ہیں، جن کے جوابات اگلی سطور میں ذکر کریں گے۔ یمن کی اندرونی صورتحال پر نظر دوڑائیں تو ایک لمحے کیلئے دل خوفزدہ ہو جاتا ہے کہ دونوں اطراف مسلمان ممالک ہونے کے باوجود بھی یمن عالمی طاقتوں کے حصار میں کیوں ہے؟ آخر عالمی طاقتیں یمنی بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو نشانہ کیوں بنائے ہوئے ہیں؟ 2016ءمیں UNICEF کی رپورٹ کے مطابق ہر 35 سیکنڈ بعد ایک یمنی بچہ ہیضہ کی بیماری میں مبتلا ہو جاتا تھا اور 2017ء میں یہ بیماری اتنی شدت اختیار کر جاتی ہے کہ ایک ہفتے میں 24000 کیسز رپورٹ ہوتے ہیں اور ہر دو دن بعد 35 بچے مر جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ پانی، بجلی، خوراک اور ادویات کی قلت انتہائی دردناک موضوع ہے۔ یمن کی ستر فیصد آبادی امداد پر زندہ ہے، جس کی ترسیل کا اہم راستہ الحدیدہ ہے، مگر اس وقت آل سعود اور اس کے اتحادیوں نے اس امداد کو بھی منقطع کرنے کیلئے الحدیدہ پر پوری توجہ مرکوز کر رکھی ہے اور اسے نشانہ بنا کر میزائل داغے جا رہے ہیں۔ یمن کی عوام بھوک اور پیاس سے مر رہی ہے جبکہ آل سعود اپنے صیہونی دوستوں سے مل کر انسانیت کو لہولہان کر رہے ہیں۔ 2016ءسے لے کر 2018ءتک کی عالمی رپورٹ کے مطابق تقریباً 20 لاکھ یمنی بچے، بوڑھے، مرد و زن جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں بھوک سے مرنے والوں کی تعداد 5 لاکھ 26 ہزار ہے۔ ہم صرف یمن میں عورتوں اور بچوں کی تصاویر پر نظر کریں تو یہ تصویریں ہمارا سینہ چیرتی ہیں۔ اس کے باوجود اقوام متحدہ کا ردعمل صرف مذمت کی حد تک ہے۔ وہ بھی آل سعود کی مذمت ہونے کے بعد ان سے معذرت خواہی کر لی جاتی ہے۔ درحقیقت یمن اور سعودی عرب کا معاملہ مذہبی و عقیدتی معاملہ نہیں، لیکن ہمارا میڈیا اسی تناظر میں ہمیں دکھانے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔ امریکہ و اسرائیل ناصرف یمن بلکہ فلسطین پر بھی تسلط حاصل کرنے کیلئے آل سعود کو استعمال کرتے رہے ہیں اور ابھی موجودہ صورتحال بھی یہی ہے۔ اسی وجہ سے امریکہ آل سعود کی مدد کیلئے ہمہ وقت تیار نظر آتا ہے۔ یقیناً آل سعود امریکہ و اسرائیل کی دودھ دینے والی وہ گائے ہے، جس سے وہ دودھ دوہتے ہیں۔ پھر ہمارا میڈیا چیخ چیخ کر کہتا ہے مسلمانوں کا خانہ کعبہ خطرے میں ہے، مسلمانوں پر جہاد واجب ہے، یمن کے حوثی باغی حرمین شریفین پر حملہ کریں گے، میڈیا کی اس بے لگام آواز پر سادہ لوح انسان یقین کر لیتا ہے، لیکن ہر باشعور انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر خانہ کعبہ کو یمنی نہتوں سے کیا خطرہ ہے۔؟ کیا یمن میں رہنے والے مسلمان نہیں؟ کیا یمنی مسلمانوں کو خانہ کعبہ عزیز نہیں؟ جبکہ مسلم دنیا کے ہر فرقے کو خانہ کعبہ عزیز ہے اور اسی طرف رو بہ قبلہ ہیں۔ اسی مناسبت سے باشعور افراد سوچنے پر مجبور ہیں کہ آل سعود کے نزدیک خانہ کعبہ کو یہودیت (امریکہ و اسرائیل) سے کوئی خطرہ نہیں، لیکن یہی خطرہ یمن سے کیوں ہے جبکہ آل سعود کے حکمران امریکی ایماءپر کفار کے نجس قدم رکھوانے کے ساتھ لاکھوں انسانوں کے قاتل بھی ہیں۔ ان سب دلائل کے بعد باشعور انسان کا خیال اسی طرف مبذول ہوتا ہے کہ یہ جنگ اقتدار، تسلط اور استعماریت کی جنگ ہے۔ حرمین شریفین کو سب سے بڑا خطرہ آل سعود سے ہے، کیونکہ آل سعود ہی اپنے محلات بنوانے کیلئے مقدس مقامات کو پامال کرتے ہیں اور اہلبیت (ع) و اصحاب اجمعین و ازواج مطہرات کی قبور کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے یمن میں امن و استحکام کی بجائے بے گناہ افراد کا خون بہا کر یہودیت کو خوش کیا جا رہا ہے۔ آج پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ یمن کے مسلمان امریکی و سعودی اتحاد کے مظالم کی چکی میں پس رہے ہیں اور دلسوز مسلمان ان کی ہر طرح سے مدد کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کے وزراءاور فضلہ خور میڈیا نہ صرف اس مظلومیت پر خاموش بلکہ ظالمین کی حمایت کرتے نظر آرہے ہیں۔؟ حلب اور شام پر واویلا کرنے والا نام نہاد میڈیا آل سعود کے مظالم پر خاموش کیوں ہے؟ کیا انہیں یمن میں جلتی انسانیت نظر نہیں آتی؟ کیا ان کے دل میں یمنی بچوں اور عورتوں کیلئے نرم گوشہ نہیں؟ کیا یہ اسلامی تعلیمات کے ساتھ کھلا مذاق نہیں؟ پانچ سالوں سے یمن کے مظلوم مسلمان حالت جنگ میں ہیں اور اب یہ جنگ صرف اسلحہ کی جنگ نہیں رہی بلکہ بھوک، پیاس، ادویات بلکہ اب یہ جنگ بیالوجیکل جنگ بھی بن چکی ہے کہ آئے روز سعودی و امریکی اتحاد یمن پر وبائی امراض پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ایمانی طاقت کے بل بوتے پر یمن کی مظلوم عوام مایوسی کا شکار ہوئے بغیر استعمار کے خلاف استقامت دکھا رہی ہے، آل سعود اور امریکہ کے وحشی درندوں کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ہمارا میڈیا اس ظلم کو فرقہ واریت کا نام دے کر مظلومیت کی آواز کو دبا رہا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یمن کے حوالے سے مسلمانان جہاں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے؟ یا مسلمانوں کو مسئلہ یمن پر خاموش تماشائی بنے رہنا چاہیئے؟ جواب بالکل واضح ہے کہ مظلوم کی مدد و حمایت کرنا عقلی و شرعی طور پر واجب ہے، کیونکہ اسلام کی نظر میں حقیقی مسلمان وہ ہے، جو فقط اپنے بارے میں نہیں سوچتا بلکہ مسلمانان جہاں کے بارے فکرمند رہتا ہے۔ اسلام نے مسلمانوں کو ایک دوسرے سے غافل رہنے کی اجازت نہیں دی۔ اس لئے مسلمانوں کو جسم واحد قرار دیا، جیسے جسم میں کسی ایک جگہ درد ہو تو پورے جسم میں درد ہوتا ہے۔ ویسے ہی مسلمان دنیا کے جس کونے میں رہتا ہو، اس کی چیخ و پکار سے باشعور افراد چیخ و پکار اٹھتے ہیں۔ مسلمان ہونے کے ناطے ہماری ذمہ داری ہے کہ مظلومیت کی آواز کو دنیا کے گوش و کنار تک پہنچائیں۔ دشمن کے ان ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس آگ کو ٹھنڈا کرے اور ظالمین کے خلاف آواز بلند کرے۔ عالم اسلام کو اپنے مسائل مل بیٹھ کر باہمی گفت و شنید سے حل کرنے چاہیں۔ عالم اسلام کو چاہیئے کہ وہ عالم کفر کو ایسا موقع ہی نہ دے، جس سے وہ مسلمانوں کے درمیان جنگ و جدل کی آگ لگا سکے اور اس آگ سے پھر اپنے مقاصد حاصل کرسکے۔ |


































