Tue Oct 13, 2026

امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری جرمنی میں پولینڈ کے اسٹارلنک سیٹلائٹ اسٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کے الزام میں متعدد امریکی شہری گرفتار خلیجی ممالک میں کشیدگی، لاہور ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں منسوخ لاہور کا دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلا نمبر پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس خیبرپختونخوا میں گورنر راج جمہوری اقدار پر سنگین حملہ ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور منتخب وزیراعلیٰ کی گرفتاری جمہوریت پر شب خون ہے، علامہ باقر زیدی امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا، ایرانی اخبار یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں

روزانہ کی خبریں

کشف حقیقت کی جستجو کا محرک اصلی کیا ہے؟

تحریر: محمد حسن جمالی

حقائق کی جستجو ہر انسان کی فطری خواہش ہوتی ہے، ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ کائنات کی موجودات کی حقیقت اور ماہیت سے باخبر ہو جائے، جب وہ تلاش اور جستجو کرکے کسی مجہول کو معلوم بنانے میں کامیاب ہوتا ہے تو اس کی روح کو تسکین ملتی ہے۔ چنانچہ اسی فطری حقیقت کی تلاش پر مبنی حس کے سبب آج علمی دنیا میں عظیم ترقیاں ہمیں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے سمیت انسان کی زندگی کے تمام شعبوں میں حیرت انگیز پیشرفت کا اصلی محرک یہی فطری حقیقت شناسی کی حس ہے، جو تمام انسانوں میں پائی جاتی ہے۔ یہ فطری احساس انسان کو حقائق کی شناخت کے میدان میں تلاش اور جستجو کرنے کے لئے توانائی فراہم کرتا ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ طول تاریخ میں باشعور افراد نے سب سے زیادہ جس چیز کو اہمیت دی، وہ مسئلہ شناخت ہے۔
مسلم و غیر مسلم دانشوروں کی زندگی کا بغور مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت ہمیں نظر آتی ہے کہ انہوں نے کشف حقائق کی راہ میں بے پناہ زحمتیں اٹھائی ہیں، طرح طرح کے مسائل اور مشکلات کو برداشت کیا ہے۔ انہوں نے اس ہدف تک رسائی کے لئے فقر و غربت اور بھوک افلاس کا خندہ پیشانی سے استقبال کیا، کسب دانش کی راہ میں روڑے اٹکانے والوں سے ڈٹ کر مقابلہ کیا، مار کھائی، جیل گئے مگر اپنے ہدف سے پیچھے ہٹنے کے لئے کسی سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ تاریخ بشریت ایسے سائنسدانوں کی درخشاں زندگی سے بھری پڑی ہے، جنہوں نے تحقیق کے میدان میں شگفت انگیز کارنامے سرانجام دیئے ہیں، آبی حیوانات کی معلومات حاصل کرنے کی غرض سے سمندر میں کودنے والے بہت سارے محققین غرق ہوچکے ۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ مسلم دانشوروں سے متعلق تو یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اسلام نے علم و دانش کو بے انتہاءاہمیت دی ہے، اس کی بڑی فضیلتیں بیان کی ہیں اور شناخت و معرفت کو سعادت دارین کی کلید قرار دیا ہے، جس کے باعث مسلم دانشوروں نے تحصیل کی راہ میں پیش آنے والے مسائل و مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے سلسلہ تحصیل جاری رکھا، لیکن بے دین اور سیکولر طبقے کو کس چیز نے کشف حقائق کے راستے میں جان ہتھیلی پر رکھ کر جدوجہد کرنے کی ترغیب دلائی؟ وہ کونسا سبب ہے جس نے لائیک اور مادہ پرست افراد کو علم اور تحقیق کے میدان میں لائق تقدیر کارنامے سرانجام دینے کے لئے آمادہ کیا؟جواب یہ ہے کہ توحید پرستوں کی طرح ان میں بھی فطری طور پر حقیقت جوئی کی حس پائی جاتی ہے، جس نے ان کو کشف حقائق کے راستے پر گامزن کر دیا، ان کو کسب علم و دانش کی ترغیب دلائی۔
پس علمی اور تحقیقی میدان میں انسان کی تلاش اور جستجو کا مقصد فقط مادی مفادات کا حصول نہیں، اسے تو ثانوی اہمیت حاصل ہے، یہ دوسرے درجے کا مقصد تو ہوسکتا ہے ہدف اولی ہرگز نہیں۔ اس کا اصلی ہدف تو انسان میں پائی جانی والی فطری حقیقت جوئی پر مبنی حس کی نداءکو جواب دینا ہے بس۔ اس فطری حقیقت جوئی کی حس کی بارز نشانی سوال اٹھانا اور اشکال و اعتراض کرنا ہے۔ تعلیمی درسگاہوں میں جب طالب علم اپنے اساتذہ سے سوالات کرتے ہیں، ان کے لیکچرز پر اعتراض کرتے ہیں تو یہ ان کا مسلمہ حق ہے، یہ ان کی فطری حقیقت جوئی کی حس زندہ ہونے کی نشانی ہے، نہ کوئی اور چیز۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہماری تعلیمی درسگاہوں میں پڑھانے والے اساتذہ کی اکثریت کلاسوں میں بچوں کے اٹھائے جانے والے سوالات اور اعتراضات کے علمی و قانع کنندہ جوابات دے کر انہیں مطمئن کرانے کی بجائے انہیں توہین کے کھاتے میں ڈال کر فخر محسوس کرتے ہیں۔
ایسی تعلیم فطرت کے اصول سے ہم آہنگ نہ ہونے کی وجہ سے سودمند نہیں ہوسکتی۔ ایسے اساتذہ کے پاس پڑھنے والوں کی پوشیدہ استعداد نکھر کر شکوفا ہونے کے بجائے اندر ہی دب کر مرجاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ طالب علموں کے سوالات یا اعتراضات درحقیقت ان میں موجود فطری حقیقت شناسی کے احساس کی آواز ہوتے ہیں، کیونکہ ان میں فطری طور پر تحقیق اور جستجو آمادہ ہوتا ہے۔ جنانچہ جو بھی سوال کرسکے، بڑا ہوکر جواب دے گا۔ چنانچہ حضرت علی (ع) کا فرمان ہے: بچے کا دل نرم زمین کی مانند ہے، آپ جو بھی اس میں ڈالیں گے، وہ قبول کرے گا۔ اسی فطری حقیقت جوئی کے رجحان نے ہی بشریت کو حکمت اور فلسفہ سیکھنے کی طرف مائل کیا ہے۔ فلاسفرز موجودات عالم کے حقائق کو جاننا چاہتے ہیں۔ شہید مطہری کے بقول حس حقیقت جوئی کا نام حس فلسفی بھی رکھ سکتے ہیں۔
آپ یہ بھی لکھتے ہیں کہ بو علی سینا نے نتیجے کے اعتبار سے فلسفے کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے: فلسفی بننے کا حتمی نتیجہ خود انسان کا عالمِ مادی و ظاہری کی طرح ”عالم عقلی“ بن جانا ہے، یعنی اس ”عالم عینی“ یا مادی کو ویسا درک کیا جائے جیسا وہ ہے۔ جب اس فطری حقیقت جوئی کی حس کا تقاضا پورا ہوتا ہے، انسان دانش کو موتی کے طور پر چن لیتا ہے اور وہ علم کا خوگر بن جاتا ہے تو اسے ایسی لذت حاصل ہوتی ہے، جس کا موازنہ کسی مادی لذت سے نہیں کیا جاسکتا۔ اسے بے پناہ مسرت ملتی ہے، شادمانی کی ایک خاص کیفیت اس پر طاری ہوتی ہے۔ خواجہ نصیرالدین کے بارے میں لکھا ہے کہ علمی مسائل میں وہ بہت غور کیا کرتے تھے، بعض اوقات رات کے آخری لمحات میں جب کوئی علمی مشکل حل ہوتی تھی تو انہیں اس سے اتنی لذت ملتی تھی کہ بے اختیار بلند آواز میں کہتے تھے ” بادشاہ اور ان کے شاہزادے کہاں ہیں، آجایئے ذرا دیکھ لیجئے کہ اس وقت علمی مشکل حل ہوکر جس لذت کا مجھے احساس ہو رہا ہے، یہ زیادہ ہے یا محسوس امور سے تمہارے اٹھانے والی لذتیں بیشتر ہیں۔
شہید مطہری(رہ) نے فطرت کی بحث میں ان دو واقعات کو نقل کیا ہے: پہلا واقعہ یہ ہے کہ ابو ریحان بیرونی مرض الموت میں مبتلا تھے، ان کا ایک ہمسایہ فقیہ تھا، وہ ابو ریحان کی عیادت کے لئے آیا۔ اس نے دیکھا کہ وہ بستر پر پڑے ہیں اور روبہ قبلہ لیٹے ہوئے ہیں اور زندگی کی آخری سانس لے رہے ہیں۔ ابو ریحان نے اپنے اس ہمسائے سے وراثت کا ایک شرعی مسئلہ پوچھا۔ اس فقیہ کو تعجب ہوا اور کہنے لگا کہ یہ کون سا وقت ہے مسئلہ پوچھنے کا؟ ابو ریحان کہنے لگے، مجھے معلوم ہے کہ میں مر رہا ہوں لیکن آپ سے یہ مسئلہ پوچھ رہا ہوں، اگر میں اس مسئلہ کا جواب جان کر مر جاو ¿ں تو بہتر ہے یا نہ جانتے ہوئے مر جانا۔؟ واضح ہے کہ جان کر مرنا بہتر ہے ابو ریحان کہنے لگا، پھر اس کا جواب بتائیں؟ تو اس نے جواب دیا۔ اس فقیہ کا کہنا ہے کہ میں ابھی واپس اپنے گھر نہ پہنچا تھا کہ ابو ریحان کے گھر سے عورتوں کے رونے کی آواز آنے لگی۔
حجتہ الاسلام سید محمد باقر شفتی اصفہانی مرحوم کے بارے میں بھی ایک واقعہ ہمارے قدماء نے نقل کیا ہے اور بالکل ایسا ہی واقعہ پاسچر کے بارے میں بھی ہے۔ جناب سید باقر مرحوم کی شب زفاف تھی، جب دلہن کا ہاتھ دلہا کے ہاتھ میں دے دیا جاتا ہے اور پھر عام طور پر عورتیں دلہن کو حجلہ عروسی (وہ خاص کمرہ جو دلہن کے لئے آراستہ کیا جاتا ہے) میں لے جاتی ہیں، اس وقت جناب سید محمد باقر کسی دوسرے کمرے میں چلے گئے، تاکہ جب عورتیں چلی جائیں تو پھر دلہن کے پاس جائیں تو انہوں نے سوچا کہ موقعے سے کیوں نہ فائدہ اٹھایا جائے اور مطالعہ کیا جائے، انہوں نے مطالعہ شروع کر دیا۔ عورتیں چلی گئیں، دلہن بیچاری تنہا بیٹھی رہی، بہت انتظار کیا کہ دولہا میاں آجائیں مگر وہ نہ آئے۔ سید محمد باقر جب متوجہ ہوئے تو وقت سحر تھا، یعنی علم کی کشش نے انہیں اس طرح سے جذب کر لیا کہ وہ سہاگ رات کو اپنی دلہن کو بھول گئے۔
ReplyReply allForward

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular