Tue Oct 13, 2026

ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری جرمنی میں پولینڈ کے اسٹارلنک سیٹلائٹ اسٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کے الزام میں متعدد امریکی شہری گرفتار خلیجی ممالک میں کشیدگی، لاہور ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں منسوخ لاہور کا دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلا نمبر پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس خیبرپختونخوا میں گورنر راج جمہوری اقدار پر سنگین حملہ ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور منتخب وزیراعلیٰ کی گرفتاری جمہوریت پر شب خون ہے، علامہ باقر زیدی امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا، ایرانی اخبار یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے

روزانہ کی خبریں

پارلیمنٹ سے شیعہ قانون سازی، حقیقت کیا ہے؟

تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

ایک خاتون جو ملٹی نیشنل کمپنی میں بڑے عہدے پر فائز تھیں، ایک دوست کے ذریعے رابطہ کیا اور اپنی کہانی بیان کی کہ آٹھ سال پہلے ان کی شوہر سے ناچاقی ہوئی۔ جب بات کسی بھی طور پر نہ بن سکی تو میں نے عدالتی خلع حاصل کر لیا، یہ خلع تین ماہ میں مل گیا، میرا شوہر نوٹس ملنے کے باوجود عدالت نہیں آیا۔ اب میں پاکستانی قانون کے مطابق شادی کرسکتی ہوں مگر شرعی مسئلہ کیا ہے۔؟ میں نے عرض کیا کہ شرعی طور پر آپ ابھی تک اس کی بیوی ہیں اور وہ آپ کا شوہر ہے، اس عدالتی خلع کی شرعی حیثیت نہیں ہے۔ آپ شوہر سے رابطہ کریں، وہ ہمیں وکیل بنا دے، تاکہ ہم طلاق کے صیغے گواہوں کی موجودگی میں جاری کروا دیں۔ اس خاتون نے شوہر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، مگر نہ ہو سکا، اس نے اپنی ساس سے رابطہ کیا تو جو صلواتین اس محترمہ نے سنائیں، وہ ناقابل تحریر ہیں۔ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم دوسرے کو اذیت دے کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اب سابقہ شوہر فیملی سمیت امریکہ شفٹ ہوچکا ہے اور یہ خاتون یہاں اذیت میں مبتلا تھی۔
میں نے انہیں ایک ادارے کی راہ دکھلائی، جو اس کا شرعی حل نکالتے ہیں۔ کوئی چھ ماہ کی مسلسل خط و کتابت اور جدوجہد کے بعد وہ پروسس مکمل ہوا کہ اب یہ محترمہ دوسری جگہ شادی کرسکتی ہیں۔ بہت سے کیس ایسے بھی ہیں، جہاں دس دس سال تک طلاق نہیں دی گئی اور بچیوں کی شادی کی عمر ضائع کر دی گئی۔ کچھ لوگوں نے حق شرعی دس ہزار بنتا تھا مگر دس دس لاکھ روپے لے کر طلاق دی۔ اسی طرح مختلف ذرائع سے لوگ مسئلہ لکھوانے کے لیے رابطہ کرتے ہیں کہ اکیلی بیٹی وارث ہے، اس صورت میں شیعوں کا مسئلہ وراثت بتا دیں، المیہ یہ ہے کہ چچا مرحوم بھائی کی بیٹی سے جائیداد ہتھیانے کے لیے قانونی سقم سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ ملی بھگت سے کامیاب بھی ہو جاتے ہیں، حالانکہ فقہ جعفریہ میں یہ مسئلہ بہت ہی واضح ہے۔ اسی طرح ایک مسئلہ یتیم پوتے کی میراث کا ہے۔
ریاست پاکستان اس لیے تشکیل پائی تھی کہ یہاں مسلمان اسلام کے مطابق زندگی گزاریں گے اور ان کے تمام مسائل قرآن و سنت کے مطابق حل ہوں گے۔ آئین میں ایک اصول کے طور پر یہ بات تسلیم کر لی گئی کہ یہاں کوئی بھی قانون سازی قرآن و سنت کے خلاف نہیں ہوسکتی۔ فیملی لائ کے طور پر ایک ایکٹ ایوب خان کے دور سے نافذ ہے، یہ ایکٹ فقہ حنفی کے بھی خلاف ہے، مگر ابھی ہمارا وہ موضوع نہیں ہے۔ فقہ جعفری کے تو صریحاً خلاف ہے، جس کی طرف اشارہ کیا گیا۔ اب یہ ایک نافذ قانون کی شکل میں موجود ہے، ججز اسی کے مطابق فیصلے کرتے ہیں اور انتظامیہ انہی کو عملی طور پر نافذ کراتی ہے۔ دستور کی دفعہ 227 کے تحت دو اعلانات کیے گئے تھے: ایک یہ کہ موجودہ تمام قوانین کو قرآن و سنت میں مذکور اسلامی احکام سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ جنرل ضیاءالحق کے دور میں اس دفعہ میں ترمیم کرکے ایک توضیح کا اضافہ کیا گیا کہ کسی فرقے کے "شخصی امور” میں قرآن و سنت کی وہی تعبیر رائج ہوگی، جو اس فرقے کی مخصوص تعبیر ہوگی۔
قائد ملت جعفریہ مفتی جعفر حسین ؒ کے دور میں زکوآ کی جبری بحق سرکار کٹوتی اور فقہ جعفریہ کو قانون سازی میں مکمل طور پر نظر انداز کرنے کے خلاف پارلیمنٹ کا گھراو کیا گیا تھا۔ اس وقت یہ بات منوائی گئی تھی کہ کسی دوسرے کی قرآن و سنت کی تعبیر کو ٹھونسا نہیں جائے گا بلکہ ہر مکتب کی تعبیر تسلیم کی جائے گی۔ یہ اہم دستوری کامیابی اس معاہدے کے نتیجے میں حاصل کی گئی تھی، مگر افسوس کہ مفتی جعفر حسین? جلد اللہ کو پیارے ہوگئے اور بعد میں ہماری ترجیحات میں یہ چیز نہ رہی۔ دستور کی دفعہ 227 ہمیں یہ حق دیتی ہے کہ ہم فقہ جعفری کے مطابق قانون سازی کروا سکتے ہیں، بلکہ یہ پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ جب کروڑوں کی تعداد میں لوگوں کا حق متاثر ہو رہا ہے تو ہر صورت میں فیملی لاءکو نئے سرے سے بنایا جائے۔
علامہ افتخار حسین نقوی صاحب اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر بنے تو وہ اس مسئلے سے آگاہ تھے۔ انہوں نے پہلے اسلامی نظریاتی کونسل میں یہ مسئلہ اٹھایا اور پھر اسی آئینی دفعہ کے تحت سپریم کورٹ میں رٹ دائر کی کہ سپریم کورٹ پارلیمنٹ کو حکم دے کہ وہ فقہ جعفری کے مطابق قانون سازی کرے۔ مجھے یاد ہے کہ اکتوبر 2017ءمیں یہ رٹ سماعت کے لیے منظور ہوئی۔ سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان نے ہمارے وکیل فیض رسول جلبانی صاحب کو سنا اور تسلیم کیا کہ واقعی یہ قانونی سقم موجود ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عمومی طور پر فیصلے فقہ جعفریہ کے قوانین کو مدنظر رکھ کر ہی کیے جاتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے یہ کہا کہ ہم پارلیمنٹ کو قانون سازی کا حکم نہیں دے سکتے، مگر سپریم کورٹ نے یہ آبزرویشن دے دی کہ اس کے مطابق قانون سازی ہونی چاہیئے۔ اس سماعت کے موقع پر شیعہ علماءکی بھی ایک بڑی تعداد سپریم کوٹ میں موجود تھی۔
یہ بڑی کامیابی تھی کہ سپریم کورٹ نے اصولی طور پر نہ صرف اس حق کو تسلیم کیا بلکہ اس قانونی سقم کو بھی تسلیم کیا تھا۔ علامہ افتخار حسین نقوی نے یہ مسئلہ اسلامی نظریاتی کونسل میں اٹھایا، جہاں سے متفقہ طور پر تمام مسالک کے علماءنے اس حق کو تسلیم کیا۔ سپریم کورٹ اور اسلامی نظریاتی کونسل کی تائید کے بعد یہ مسئلہ قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ میں لایا جائے گا۔ یہ ایک لمبا پروسس ہے، اس میں کئی وزارتیں شامل ہیں۔ ابھی تک کی معلومات کے مطابق وزارت قانون نے ڈرافٹ پارلیمانی کمیٹی کو بھیجا ہے۔ اب یہ اگلے مراحل طے کرے گا اور اللہ نے چاہا تو یہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا، جس سے ہزاروں شیعہ بچیوں کی زندگیاں تباہ ہونے سے بچ جائیں گی۔
یہ قانون سرے سے کسی دوسرے مسلک کے لیے ہے ہی نہیں۔ یہ فقط اور فقط اہل تشیع کے احوال شخصیہ یعنی نکاح، طلاق اور میراث جیسے مسائل کے لیے ہے۔ بعض لوگ اسے فرقہ واریت کا رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ناقابل فہم اور افسوسناک ہے۔ پاکستانی آئین کے مطابق قانون سازی کروانا ہر مسلک کا حق ہے، اس میں دو رائے نہیں ہونی چاہیں۔ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے نام سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ انتہاءپسندوں نے کہا تھا کہ یہ سب کے لیے فقہ جعفریہ کا نفاذ چاہتے ہیں، حالانکہ ہم فقط اہل تشیع کے لیے فقہ جعفریہ کا مطالبہ رکھتے تھے۔ دوسری کسی بھی فقہ کے پیروکار اپنی فقہ پر عمل کریں، ہمیں خوشی ہوگی کہ وہ اسلام کی دوسری تعبیر پر عمل کر رہے ہیں۔ شریعہ اکیڈمی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے سربراہ ڈاکٹر محمد مشتاق صاحب نے درست لکھا کہ اہل تشیع کو یہ حق حاصل ہے کہ "شخصی امور” (جیسے نکاح، طلاق، میراث وغیرہ) میں اپنی فقہ پر عمل کریں۔ اس لیے میں نہ صرف ان کے اس حق کا قائل ہوں بلکہ ان کے اہل علم کو اس حق کے لیے جدوجہد پر خراجِ تحسین بھی پیش کرتا ہوں۔ کاش ہم میں اتنی وسعت نظری پیدا ہو جائے کہ ہم ایک دوسرے کو اسی وسعت قلبی کے ساتھ قبول کریں۔
ReplyReply allForward

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular