Tue Oct 13, 2026

ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری جرمنی میں پولینڈ کے اسٹارلنک سیٹلائٹ اسٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کے الزام میں متعدد امریکی شہری گرفتار خلیجی ممالک میں کشیدگی، لاہور ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں منسوخ لاہور کا دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلا نمبر پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس

روزانہ کی خبریں

معاد۔۔۔واپسی کا مقام

استاد محسن قرائتی

ہر انسان کی عقل اور فطرت کے مطابق اس کے ذہن میں معاد کا ایک قابل توجہ مقام ہے اس لئے کہ کون ایسا شخص ہے جو یہ پوچھنا یا جاننا نہ چاہے گا کہ انسان اور اس دنیا کا مستقبل کیا ہوگا؟ انسانی زندگی اور تگ ودو کا خاتمہ کہاں ہوگا؟ اس زندگی کا مقصد اور نتیجہ کیا ہے؟سوالات سب کے ذہن میں آتے ہیں۔
ہمارے پاس اس بات کے دو جوابات ہیں:
1۔ تمام آسمانی مذاہب، ان دلائل کی رو سے جو ہم آگے چل کر بیان کریں گے، دنیا اور انسان کے مستقبل اور اس کے اعمال و افعال کے نتیجے کو بہت روشن، امید افزا اور اطمینان بخش سمجھتے ہیں۔ قرآن پاک میں فرمایا گیا ہے کہ :
”آخر کار سب کو تمہارے پروردگار کے پاس پہنچنا ہے۔“(سورہ نجم۔آیت 42)
2۔ مادی نظریات، اس دنیا اور انسان کو مستقبل میں ختم ہونے والا، فنا ہونے اور مٹنے والا سمجھتے ہیں۔ یہ بے حد خطرناک اور مایوس کن نقطہ ¿ نظر ہے۔ مزید یہ کہ اس قسم کے نظریے رکھنے والوں کے پاس اپنے ان نظریوں کے حق میں کوئی علمی دلیل بھی نہیں ہے۔
اس بارے میں قرآن مجید فرماتا ہے : جو لوگ قیامت پر ایمان نہیں رکھتے ان کا کہنا ہے کہ زندگی دنیا کے ان چند دنوں سے زیادہ اور کچھ نہیں ہے۔ ہم اسی قلیل عرصے میں اپنی زندگی اور موت پالیتے ہیں ، پھر زمانہ ہم کو مٹا دیتا ہے لیکن ان کے پاس اپنے (قیامت سے) اس انکار اور اس قول کی کوئی علمی دلیل نہیں ہے بلکہ یہ سراسران لوگوں کا وہم اور خیال ہے۔(سورہ جاثیہ۔24)
فطری دلیلیں
اگرچہ کچھ لوگ زبان سے تو معاد کا اقرار نہیں کرتے لیکن لاشعوری طور پر وہ اپنی روح کی گہرائی میں انسان کی ابدیت کو محسوس کرتے ہیں۔ کبھی کبھی وہ ازخود ایسے آثار ظاہر کرتے ہیں جو اس بات کی دلیل ہیں کہ وہ موت اور جسم کے گلنے سڑنے کے باوجود انسان اور اس کی حقیقی شخصیت کونیست و نابود ہو جانے والی چیز سمجھنے کے لئے آمادہ نہیں ہیں۔ہم ذیل میں ان آثار کی کچھ مثالیں پیش کرتے ہیں۔
1۔ معاد کا انکار کرنے والے سب لوگ اپنے بزرگوں کی قبروں کا احترام کرتے ہیں۔
2۔ یہ لوگ سڑکوں ، اداروں، مدرسوں اور یونیورسٹیوں کے نام اپنی مردہ شخصیتوں کے نام پر رکھتے ہیں۔
3۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ مرنے کے بعد ان کی نیک نامی باقی رہے۔
4۔ یہ لوگ اپنی اولاد کے نام اپنے بزرگوں کے ناموں پر رکھتے ہیں۔
5۔ یہ لوگ کبھی کبھی اپنے مردوں کی ممیاں بناتے ہیں تاکہ وہ گلنے سڑنے سے محفوظ رہیں۔
اگر معاد سے انکار کرنے والے موت کو انسان کی فنا سمجھتے ہیں تو ان کے اس قسم کے افعال کی کیا وجہ ہے۔ جب وہ لوگ مرنے کو فنا سمجھتے ہیں، تو پھر وہ ایک مٹ جانے والے انسان کا مقبرہ کیوں بناتے ہیں اور اس کی قبر پر پھول کیوں چڑھاتے ہیں۔ بیشک یہ سب باتیں اس امر کا پتا دیتی ہیں کہ معاد کے مخالف بھی اپنے دل میں انسان کی روح اور شخصیت کی بقا پر ایک (کمزور) قسم کا ایمان ضرور رکھتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی شخصیت موت کے ساتھ ساتھ ختم نہیں ہو جاتی۔ ہم اس بات کی تھوڑی سی وضاحت اور کرتے ہیں۔
اگر لوگ موت کا مطلب فنا ہونا ہی سمجھتے ہیں تو مختلف قومیں اور نسلیں اپنی اولاد کے نام اپنے بزرگوں کے نام پر کیوں رکھتی ہیں اور کیوں ان پر فخر کرتی ہیں ؟ اگر کوئی محض ان لوگوں میں سے کسی کے باپ کی قبر پر ٹھوکر مارتا ہے تو اس سے کیوں لڑتے ہیں؟ بزرگوں کے عالیشان مقبرے کیوں تعمیر کرتے ہیں؟ بعض قبیلے اپنے مردوں کے ساتھ زیورات، ہتھیار اور لباس کیوں دفن کرتے ہیں؟ ہاں! انسان اپنے دل میں بقا کا احساس رکھتا ہے اور کسی نہ کسی طرح تاریخ میں نیک نامی کو حوصلہ افزائی کا ذریعہ تصور کرتا ہے۔
ادھر اجنبیت بھی انسان کا اندرونی احساس ہے کیونکہ یہ دنیا اس کے لئے تنگ اور محدود ہے۔ وہ وقتی طور پر اپنے آپ کو بیوی بچوں، مال و جائیداد اور سیرو سفر میں مشغول کرلیتا ہے لیکن کچھ مدت کے بعد دل ہی دل میں پھر سے ایک کمی کا احساس کرتا ہے چونکہ آرام و آسائش کی تمام چیزیں بھی اسے مطمئن نہیں کرپاتیں اس لئے کبھی وہ خود کشی کرنے کا سوچنے لگتا ہے اور کبھی یہ پوچھتا ہے کہ میری پیدائش کا مقصد کیا ہے؟ میں کس لئے ہوں ؟ پس یہ تمام اندرونی بے چینیاں بتاتی ہیں کہ انسان دنیا میں اپنے آپ کو اجنبی محسوس کرتا ہے۔ یہ دنیا اپنی وسعتوں کے باوجود اس کے لئے تنگ ہے، جسم اس کے لئے پنجرہ ہے جس میں وہ بند ہے اور دنیا اس کے لئے قید خانہ ہے۔ یہ احساس بھی اس یقین کی بنیاد ہے کہ انسان ایک دن ضرور مطمئن ہوگا اور اس کی تمام آرزوئیں برآئیں گی اور مقاصد پورے ہو جائیں گے کیونکہ ہر ضرورت، احساس اور اندرونی بے کلی کا جواب خارج میں موجود ہے مثلاً پیاس کی تسکین پانی سے، شہوت کی تسکین شریک حیات سے اور مسافرت کے احساس کی تسکین معاد سے ہو جاتی ہے۔
صحیح دلیلوں کی طرف رہنمائی
انسان کے ہر فطری احساس کا جواب دو طرح سے دیا جاسکتا ہے:
1۔ وقتی ، عارضی اور جھوٹا جواب۔
2۔ دائمی، پکا اور سچا جواب۔
مثال: ایک پیاسے شخص کی رہنمائی صاف اور خالص پانی کی طرف کی جاسکتی ہے اور اسے سراب بھی دکھایا جاسکتا ہے، اسی طرح ایک بھوکے بچے کو ماں کے دودھ سے یا اس کے منہ میں نپل دے کر بھی بہلایا جاسکتا ہے۔
غرض کہ تمام فطری احساسات کو دو طرح سے سہارا دیا جاسکتا ہے۔ اصلی اور مستقل سہارا یا بناوٹی او عارضی سہارا۔ امام علیؑ نہج البلاغہ کے خطبہ 147میں فرماتے ہیں : حضرت محمد اس لئے آئے تھے کہ لوگوں کو بتوں کی پوجا سے ہٹا کر خدا کی عبادت کی طرف اور مخلوق کی اطاعت سے ہٹا کر خالق کی اطاعت کی طرف لائیں۔ بے شک انسان کے دل میں عبادت اور محبت کی جڑ بنیاد موجود ہے۔ اگر اس کے اس اندرونی میلان کو حق کی طرف نہیں موڑا جاتا تو وہ توہمات میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
مردوں کا زندہ ہونا ناممکن نہیں
آج تک کوئی شخص معاد کے واقع نہ ہونے کی کوئی دلیل پیش نہیں کر سکا۔ معاد کے مخالفین جو واحد راگ الاپتے رہتے ہیں وہ یہ ہے کہ ایک مردہ انسان جس کے ذرات گل سڑ چکے ہوں وہ دوبارہ کیسے زندہ ہوسکتا ہے؟
اس بارے میں عقل اور قرآن کا جواب یہ ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے اور یہ کام انہونا نہیں ہے۔ یہ بات تصور میں بھی آتی ہے اور ہم رات دن برابر مردوں کے زندہ ہونے کی مثالیں اپنی آنکھوں سے بھی دیکھتے رہتے ہیں۔ امام محمد تقی ؑ فرماتے ہیں:
سونا اور جاگنا ایک بہترین مثال ہے جس سے ہم مرنے اور جی اٹھنے کے مسئلے کو سمجھ سکتے۔ موت ایک لمبی اور گہری نیند سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ اس کی ایک اور مثال درختوں کی بہار، خزاں اور نباتات کا زندہ اور مردہ ہونا ہے۔ جسے ہم سورہ ¿ فاطر میں پڑھتے ہیں: وہ خدا ہی ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے تاکہ وہ بادل کو اٹھائیں۔ پھر وہ بادلوں کو خشک علاقوں اور شہروں کی طرف روانہ کرتا ہے۔ تب مینہ برسنے کے بعد وہ اس (خشک سالی کے مارے ہوئے) مردہ شہر کو زندہ کرتا ہے۔ اس کے بعد خدا فرماتا ہے: مردوں کا زندہ ہونا بھی درختوں اور نباتات کے زندہ ہونے کی طرح ہے۔(سورہ فاطر۔ آیت11)
قرآن کا ایک یادگار واقعہ
ایک شخص نے کسی دیوار میں دبی ہوئی ایک ہڈی کرید کر نکالی اور اس کو پیس کر برادہ بنا دیا۔ پھر رسول اکرم سے کہنے لگا: اس گلی سڑی اور چورا چورا ہڈی کو کون زندہ کر سکتا ہے؟ خدا نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ اس سے کہہ دیجئے ، وہی خدا جس نے اسے پہلی بار پیدا کیا تھا۔ اس کے ریزہ ریزہ ہو جانے کے بعد بھی اسے دوبارہ پیدا کر سکتا ہے۔ (سورہ یسٰین ایت80-79)
اگر کسی چیز کا بنانے والا یہ کہے کہ اپنے کارخانے کی مصنوعات کو توڑکر دوبارہ جوڑ سکتا ہوں تو اس کا کہنا غلط نہیں ہوگا کیونکہ اس کا بنانا توڑنے اور جوڑنے سے زیادہ اہم ہے۔
معاد کے انکاریوں کو دوباتوں میں شبہ تھا۔
اول: یہ کہ گلی سڑی ہڈی بھی کہیں زندہ ہو سکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں جب ہم گل سڑ کر بکھری ہوئی ہڈیاں بن گئے تو کیا ہم دوبارہ پیدا ہو سکیں گے؟۔
دوم : یہ کہ اگر ریزہ ریزہ ہڈیوں کے زندہ ہونے کو ممکن مان بھی لیا جائے تو یہ کام کون کرے گا؟ وہ پوچھتے ہیں کہ ہمیں دوبارہ کون پلٹائے گا؟ ان سے کہہ دیجئے ، وہی خدا جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔ (سورہ بنی اسرائیل 53-54)
اگر ایک اینٹ بنانے والا کہے کہ میں اپنی اینٹ کو ریزہ ریزہ کرکے دوبارہ اسی مٹی سے نئی اینٹ بناتا ہوں تو کیا یہ لوگ اس پر بھی اس قدر تعجب کریں گے؟
یہ لوگ جو مردوں کے بکھرے ہوئے اجزا کے زندہ ہونے کو اس قدر عجیب سمجھتے ہیں ، ان کی پہلی پیدائش پر کیوں شک نہیں کرتے کیونکہ پہلی بار پیدا کرنا تو دوبارہ پیدائش سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ ایک ہوائی جہاز کا پہلی بار بنانا زیادہ مشکل ہے یا اسے کھو ل کر اس کے پرزے الگ الگ کرکے پھر سے انہیں جوڑنا ؟ اگر کسی ہوائی جہاز بنانے والے نے یہ کہا کہ میں اس ہوائی جہاز کو کھول کر اس کے پرزے الگ الگ کرکے ان کو دوبارہ جوڑ سکتا ہوں تو کیا ہمیں اس کی اس بات پر شک کرنا چاہیے؟ قطعی نہیں کیونکہ اس کو کھول کر پھر سے جوڑنا اس کے پہلی بار بنانے سے کہیں زیادہ آسان ہوتا ہے۔ پس جس نے مشکل کام کرلیا ہو وہ اس سے آسان کام بھی کر سکتا ہے (اگرچہ خدا اور اس کی بے انتہا قدرت کے آگے کوئی بات مشکل نہیں ہے۔)
ہم قرآن کو دیکھتے ہیں تو وہ اس سلسلے میں فرماتا ہے:
وہ خدا ہی تو ہے جس نے پیدائش کی ابتداءکی۔ پھر بھی وہی پیدا کرے گا اور دوسری پیدائش پہلی پیدائش سے زیادہ آسان ہے۔(سورہ روم آیت27)
ReplyReply allForward

مزید پڑھیے

Most Popular