
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم پیدائش کے موقع پر فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام "مسئلہ فلسطین اور قائداعظم محمد علی جناح” کے عنوان سے آن لائن ویڈیو کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ آن لائن کانفرنس میں ملک کی مشہور و معروف میڈیا شخصیات اور سماجی و سیاسی شخصیات نے شرکت کی اور مسئلہ فلسطین سے متعلق بابائے قوم کی پالیسی اور اصولوں پر روشنی ڈالتے ہوئے مسئلہ فلسطین اور کشمیر کی اہمیت بیان کی۔ مقررین میں فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سیکریٹری جنرل و کالم نگار ڈاکٹر صابر ابو مریم، مرکز مطالعات پاکستان و خلیج کے صدر ناصر عباس شیرازی، تحریک جوانان پاکستان کے چیئرمین عبد اللہ گل، معروف صحافی و اینکر اویس ربانی، سینیئر صحافی و تجزیہ کار ندیم رضا، انیقہ نثار، اینکر پرسن نازیہ علی، نادر بلوچ اور یوتھ و طلباء رہنماؤں میں آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر عارف الجانی، انجمن طلبہ اسلام کے مرکزی رہنماء نبیل مصطفائی، اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے صدر حسن علی سمیت آزاد کشمیر سے عشرت الاسلام نے آن لائن کانفرنس سے خطاب کیا۔ کانفرنس کی میزبانی علی واصف نے کی۔
آن لائن کانفرنس سے خطاب میں رہنماؤں نے کہا کہ آئین، قانون پارلیمانی امور، سیاست اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کو بھی معلوم ہے کہ مسئلہ فلسطین پر قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کی زیر قیادت مسلم لیگ اور دیگر ساتھیوں نے جو مؤقف اختیار کیا، وہ جمہوری، قانونی، انسانی و اخلاقی لحاظ سے سو فیصد جائز، ٹھوس اور منطقی تھا۔ اگر آج پاکستان مسئلہ فلسطین و کشمیر پر قائداعظم کے اصولوں سے روگردانی کر لے تو پھر اس کا مطلب ہے کہ پاکستان قائداعظم کا پاکستان نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم نے تحریک آزادی پاکستان کے ساتھ ساتھ تحریک فلسطین چلائی، یہی وجہ ہے کہ قائد اعظم نے فلسطین فنڈ قائم کیا، مفتی اعظم فلسطین کے نام خط میں اپنی مدد کی یقین دہانی کروائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ قائداعظم نے اپنے وقت کی سپر طاقتوں سے ٹکر لی اور ہمارے لئے اصول استوار کئے، آج پاکستان میں موجود چند نام نہاد دانشور اور میڈیا میں موجود کالی بھیڑوں کی خواہشات پر قائد اعظم کے پاکستان کو قربانی نہیں کیا جا سکتا۔
رہنماؤں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین سے متعلق بات کرتے وقت جہاں قائد اعظم کی بات کی جا رہی ہے، وہاں اگر آج حالیہ واقعات میں شہید قاسم سلیمانی کے بارے میں بات نہ کی جائے تو یہ مسئلہ فلسطین کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے شہید قاسم سلیمانی کو اس لئے قتل کر دیا، کیونکہ فلسطین کے دفاع کی مضبوط دیوار تھے۔


































