
یہ ہرگز برداشت نہیں کرینگے کہ فلسطینی موت کے نئے سلسلے کا سامنا کریں، محاصرہ ختم نہ کیا تو استقامت اسے تمام مقبوضہ زمینوں میں نشانہ بنائے گی،حماس
غزہ کے عوام ناجائز ناکہ بندی کا مقابلہ کرنے کے لئے پرعزم ہیں،اسماعیل ہانیہ،سازشوں سے ملت فلسطین کا عزم و حوصلہ ہرگز کمزور نہیں ہوگا،مزاحمتی تنظیمیں
غزہ (نیوز ڈیسک) حماس نے اسرائیل کو غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کیلئے دو ماہ کا الٹی میٹم دیدیا، حماس کے سیاسی دفتر کے رکن خلیل الحیا نے کہا کہ کہ غزہ کو کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے طبی ساز و سامان کی سخت قلت کا سامنا ہے اور حماس یہ ہرگز برداشت نہیں کرے گی کہ ملت فلسطین محاصرے کے ساتھ ساتھ موت کے نئے سلسلے کا سامنا کرے،انہوں نے صیہونی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ دو ماہ میں غزہ کے محاصرے کا سلسلہ ختم کر دیا جائے،اگر اس نے دو ماہ کے اندر محاصرہ ختم نہ کیا تو استقامت اسے تمام مقبوضہ زمینوں میں نشانہ بنائے گی ، حماس اسرائیلیوں کو پناہ گاہوں میں چھپنے پر مجبور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ تحریک اور غزہ کے عوام اس وقت تک ناجائز ناکہ بندی کا مقابلہ کرنے کے لئے پرعزم ہیں جب تک کہ اس کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاتا ،ادھر استقامتی گروہوں نے اعلان کیا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت کے مقابلے میں جہاد و شہادت اور استقامت کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مقبوضہ زمینیں پوری طرح آزاد نہیں ہو جاتیں اور بدی کے مرکز کے ساتھ تعلقات کی برقراری کی سازشوں سے ملت فلسطین کا عزم و حوصلہ ہرگز کمزور نہیں ہوگا استقامتی گروہوں نے دنیا کے تمام حریت پسندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات برقرار کرنے کی سازش کا مقابلہ کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر عوامی اقدامات اور تحریک شروع کریں


































