
سانحہ مچھ کے متاثرین کا کوئٹہ شاہراہ پر میتوں کے ہمراہ دھرنا چوتھے روز میں داخل ہوگیا، وفاقی وزراء اور صوبائی حکومت کی متعدد کوششوں کے باوجود شہداء کے لواحقین نے مذاکرات سے انکار کر دیا اور ہر قسم کے مذاکرات وزیراعظم کی آمد سے مشروط کر دیئے۔ تفصیلات کے مطابق سانحہ مچھ کے 11 شہداء کے ورثاء کا دھرنا شدید سردی کے باوجود کھلے آسمان تلے میتوں کے ساتھ جاری ہے۔ احتجاج کرنے والوں میں خواتین، بچے اور بزرگ سبھی شامل ہیں۔ مظاہرین نے مغربی بائی پاس کو دونوں اطراف سے بند کر رکھا ہے اور ہر قسم کے ٹریفک کی روانی معطل ہے۔ پیر اور منگل کی درمیانی شب وزیر داخلہ شیخ رشید اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری دھرنے کے شرکاء سے مذکرات کے لیے پہنچے تو لواحقین نے وزیراعظم کی آمد اور صوبائی حکومت کے مستعفی ہونے کی شرط عائد کی۔
مظاہرین سے مذاکرات کے لیے منگل اور بدھ کی درمیانی شب وفاقی وزیر علی زیدی اور زلفی بخاری بھی پہنچے، تاہم شرکاء نے وزیراعظم کی آمد تک دھرنا ختم کرنے اور میتوں کی تدفین سے انکار کر دیا۔


































