
مائیں ، بہنیں ، بیٹیاں اور معصوم بچے فریاد کرتے ہیں لیکن صاحب اختیار توجہ نہیں دیتے،یہ کئی کئی سال سے اپنے پیاروں کی جدائی کے کرب میں مبتلا ہیں
ایک سال سے ریاستی اداروں اور وزرا سے ملاقاتوں کے باوجود انکے پیاروں جبری لاپتہ افراد کو بازیاب نہیں کیا گیا ، ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ کی نیوز کانفرنس
کراچی(نیوز ڈیسک) جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے احتجاجی تحریک کے نئے مرحلے کا اعلان کردیا گیا، 25دسمبر کو مزار قائد پر احتجاج کیاجائے گا پھر بھی شنوائی نہ ہوئی پارلیمنٹ ہاوَس کے سامنے دھرنا دیا جائے گا،اس بات کا اعلان مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما علامہ سید احمد اقبال رضوی نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب میں نیوزکانفرنس کے دوران کیا، اس موقع پر آئی ایس او کے مرکزی صدر عارف حسین الجانی ، علامہ سید حیدرعباس عابدی، ایم ڈبلیوایم کے رہنما علامہ صادق جعفری ، علامہ مبشر حسن اور شیعہ مسنگ پرسنز کے اہل وعیال بھی موجود تھے، علامہ احمد اقبال رضوی نے کہاکہ مائیں ، بہنیں ، بیٹیاں اور معصوم بچے فریاد کرتے ہیں لیکن صاحب اختیار توجہ نہیں دیتے،یہ کئی کئی سال سے اپنے پیاروں کی جدائی کے کرب میں مبتلا ہیں ،کئی والدین بچوں کی جدائی کا غم لئے دنیا سے چلے گئے ،ہمارا سوال ہے مقتدر اداروں سے کیا اس طرح سے وہ ملک کی خدمت کر رہے ہیں ، یا ملک سے بغض و عناد کا بیج نئی نسل میں بو رہے ہیں اگر لاپتہ افراد نے کوئی جرم کیا ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جائے،رہنماو ¿ں نے کہاکہ گذشتہ ایک سال سے ریاستی اداروں اور وزرا سے ملاقاتوں کے باوجود کسی جبری لاپتہ فرد کو بازیاب نہیں کیا گیا ، ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے اور ہم ایک مستقل تحریک شروع کر رہے ہیں ،ہم اپنے احتجاج کو وسیع کر رہے ہیں ملک سمیت دنیا بھر میں شیعہ مسنگ پرسنز کے لیے اب احتجاج کریں گے،انہوں نے کہا کہ اگر اب بھی ہماری آواز کو نہیں سنا گیا تو پورے پاکستان سے یہ ساری فیملیز اسلام آباد میں جمع ہو کر اور پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے بیٹھ کر اپنا حق لیں گے


































