
شہری اگر پی کے کے کی تحویل میں ہلاک ہوئے تو ہم مذمت کرتے ہیں،امریکی بیان پر ترکی مشتعل، امریکی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی اوراحتجاج
امریکا دہشت گردی سے لاتعلقی کرتا ہے لیکن وہ پوری طرح ان کے ساتھ ہے، ترکوں کی ہلاکت پر امریکی ردعمل ایک مذاق ہے ،ترک صدر طیب اردوان
انقرہ/واشنگٹن (نیوز ڈیسک) عراق میں ترک شہریوں کی ہلاکت پر امریکا اور ترکی میں ٹھن گئی ،انقرہ میں امریکی سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا،امریکا نے عراق کے علاقے غارہ میں کرد تنظیم کی تحویل میں 13ترک شہریوں کی ہلاکت پر کہا تھا کہ اگر پی کے کے کی تحویل میں ترک شہریوں کے ہلاک ہونے کی خبر درست ہے تو ہم اس اقدام کی بھرپور مذمت کرتے ہیں،ترک صدر طیب اردوان نے امریکا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یوں تو آپ پی کے کے اور وائی پی ڈی اے سے لاتعلقی کے دعویدار ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ پوری طرح ان کے ساتھ ہیں اور ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں، ہمارے معصوم شہریوں کا خون دہشت گرد تنظیم کے ساتھ تعاون کرنے والے اور اس کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے ہر شخص کے ہاتھوں پر ہے، اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم دنیا میں یا نیٹو میں آپ کے ساتھ اتحاد کو برقرار رکھیں تو آپ کو دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے سے پرہیز کرنا ہو گا،انہوں نے ترکوں کی ہلاکت پر امریکی ردعمل کو ’ایک مذاق‘ قرار دیا ، انقرہ جو پہلے ہی شام میں امریکا کی کرد جنگجوو ¿ں کے ساتھ شراکت داری پر ناراض ہے، امریکا کی مشروط مذمت کے بیان پر مشتعل ہو گیا ہے


































