
ایران پر حملے کا مقصد اسلامی انقلاب کو نابود کرکے پٹھو اور کمزور حکومت کو اقتدار میں لانا تھا ،وہ آٹھ سال تک ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے لیکن کچھ نہ کرسکے
جنگ سے پہلے صدام نے امریکیوں سے سمجھوتہ کرلیا تھا،جانبازوں نے واضح کردیا کہ سرحدوں اور اسلام کا دفاع ہر چیز پر مقدم ہے،دفاع مقدس پر خطاب
تہران (نیوز ڈیسک ) ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران پر عراقی جارحیت کے دوران اصل فریق صدام اور بعث پارٹی نہیں بلکہ اصل فریق اور مد مقابل امریکا جیسی طاقتیں تھیں جنھیں اسلامی انقلاب سے کاری ضرب لگی تھی ، غیر ملکی حمایت یافتہ افواج کے خلاف ایران کے فیصلہ کن اور کامیاب دفاع نے ثابت کردیا کہ اس ملک پر حملہ کرنا ایک بہت ہی مہنگا اقدام ہوگا، ہفتہ دفاع مقدس کی تقریبات سے خطاب میں رہبر مسلمین نے کہا کہ جنگ بھڑکانے والی طاقتوں کا اصل مقصد اسلامی انقلاب کو نابود کرنا تھا، ان طاقتوں نے صدام کی جاہ طلبی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے اس جنگ میں آگے کردیا تھا ، بعد میں منظر عام پر آنے والی دستاویزات سے واضح ہوگیا کہ جنگ سے پہلے صدام نے امریکیوں سے سمجھوتہ کرلیا تھا ا،نہوں نے کہا کہ دفاع مقدس کے دوران برطانیہ ، فرانس، سابق سویت یونین اور یوگوسلاویہ ہمارے خلاف سرگرم تھے، ایران کو کمترین وسائل سے بھی محروم کردیا گیا تھا، کوئی چیز ہمیں فراہم نہیں کی جارہی تھی اس کے مقابلے میں میراج طیاروں سے لیکر انٹیلی جینس معلومات تک، توپوں اور ٹینکوں سے لیکر کیمیائی ہتھیاروں تک، ہر چیز صدام کو فراہم کی گئی ، دشمن نے جنگ شروع کی اور اس کا مقصد اسلامی انقلاب اور اور اسلامی جمہوریہ کو نابود کرکے ایران میں ایک پٹھو اور کمزور حکومت کو اقتدار میں لانا تھا ،وہ آٹھ سال تک ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے لیکن کچھ نہ کرسکے ،انہوںنے دفاع مقدس کو ملی تشخص اور ایرانی قوم کے دانشمندانہ اقدامات کا بہترین نمونہ قرار دیا،انہوں نے کہا کہ دفاع مقدس کے دوران اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر میدان جنگ میں داد شجاعت حاصل کرنے والے جانبازوں نے واضح کردیا ہے کہ ایران کی سرحدوں اور اسلام کا دفاع ہر چیز پر مقدم ہے۔


































