
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جمہوری دور میں فوجی قیادت کو کیوں نشانہ بنارہے ہیں؟ اپنی کرپشن اور لوٹ مار کو بچانے کے لیے اداروں پر دباؤ بڑھایا جارہا ہے، اداروں پر حملے کرنے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا، فوج مخالف بیانات دینے والے تمام لوگوں کا علاج ہوگا، مفتی کفایت ﷲ چھپتا پھر رہا ہے اسے ہر صورت پکڑیں گے ، پی ڈی ایم چوروں ، لٹیروں اور ڈاکوؤں کا ٹولہ،نہ این آراو دونگا نہ گھٹنے ٹیکوں گا، اپوزیشن فوج کو کہہ رہی ہے کہ منتخب حکومت کا تختہ الٹ دو، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے کہہ رہے ہیں کہ حکومت کو گرا دو، یہ ٹوٹ بٹوٹ سمجھتے ہیں کہ مجھے بلیک میل کریں گے۔
ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے ڈیجیٹل میڈیا کے نمائندوں کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ اپوزیشن نے ہماری حکومت بنتے ہی کہہ دیا کہ ملک تباہ ہو چکا، یہ جانتے تھے کہ ہم ملک کی معیشت اور ادارے تباہ کرکے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہمیشہ مارشل لا میں فوجی قیادت پر تنقید ہوتی تھی، موجودہ جمہوری دور میں فوجی قیادت کو کیوں نشانہ بنارہے ہیں؟ اپنی کرپشن اور لوٹ مار کو بچانے کے لیے اداروں پر دباؤ بڑھایا جارہا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کاکہنا تھا کہ یہ ٹوٹ بٹوٹ سمجھتے ہیں کہ مجھے بلیک میل کر لیں گے، مہنگائی کے حوالے سے کہا کہ عام آدمی کی مشکلات سے آگاہ ہوں، کارکردگی نہ دکھانے والوں کو تبدیل کیا جاتا رہے گا، نئے سی سی پی او لاہور کو دیکھیں گے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان کی آبادی پنجاب کے فیصل آباد ڈویژن جتنی ہے، کم آبادی اور ووٹوں کی وجہ سے ماضی کی حکومتوں نے بلوچستان پر توجہ نہیں دی، ہماری حکومت بلوچستان کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، جس طرح پیپلزپارٹی نے کراچی کو نظر انداز کیا،اسی طرح ماضی کی وفاقی حکومتوں نے بلوچستان کو نظر انداز کیا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی تباہی میں وہاں کے سرداری سسٹم کا بھی کردار ہے،ماضی میں ترقیاتی فنڈز سرداروں کے ذریعے جاتے تھے، سردار امیر ہوگئے جبکہ بلوچستان کے عوام غریب رہ گئے،جام کمال اچھے وزیراعلیٰ ہیں، ہم ان کے ساتھ مل کر بھرپور کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آچکی ہے، چور جیلوں کے اندر باہر آجا رہے ہیں، ہمارے دو وزرا کو گرفتار کیا گیا جن پر الزام پچھلے دور میں کرپشن کا تھا۔


































