
وزیراعظم پاکستان عمران خان نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی ہماری پالیسی نہیں ہے اور جب ہماری پالیسی نہیں تو پھر کوئی وزیر اسرائیل کیوں جائے گا، یہ بالکل جھوٹی خبر ہے۔ پاکستان کے جمہوری معاشرے میں کبھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرسکتے کیونکہ عوام فلسطین کی حمایت کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ 50 سال میں مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں 3 دفعہ زیر بحث آیا تو کیسے کشمیر ہمارے ہاتھ سے چلایا گیا، آج پاکستان کا امیج بھارت سے اوپر چلا گیا ہے، آج کشمیر 50 سال بعد پہلی مرتبہ اس قدر اوپر گیا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ برداشت کر رہے ہیں کیونکہ وہ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں لیکن کوئی اور ہوتا تو بڑا ردعمل آتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ کی تعریف کرتا ہوں، میں پرانے آرمی چیفس کو بھی جانتا تھا، اس طرح کسی بھی آرمی چیف کو نشانہ بنانے سے فوج کے اندر ایک ردعمل آتا ہے۔ اپوزیشن پر الزام عائد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ جنرل فیض حمید اور آرمی چیف کو نشانہ بنانے رہے اور فوج کو بلیک میل کر رہے ہیں کہ کسی طرح جمہوری حکومت کو گرانے کے لیے دباؤ ڈالیں۔ اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جانب سے 31 جنوری تک استعفیٰ دینے کی ڈیڈلائن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عوام کو سمجھنا چاہیے کہ یہ خود کو ڈیموکریٹس کہہ رہے ہیں اور پاکستان کی فوج کو اپیل کر رہے ہیں کہ جمہوری حکومت کو ہٹادیں۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تک جو چیز میری حکومت نے کرنا چاہا اور میرا منشور پر پاکستان کی فوج اور پاکستان کے سارے ادارے میرے ساتھ کھڑے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے دو سال میں پاکستان کو جس مشکل سے نکالا ہے، اگر پاکستانی فوج اور ادارے میرے ساتھ کھڑے نہ ہوتے تو میں اکیلا کیا کر سکتا تھا۔ وزیر اعظم نے نواز شریف کے حوالے سے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ پاکستان کی فوج نے اس کو کیسے بنایا، نواز شریف کو پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف کھڑا کیا گیا، جنرل ضیا نے پی پی پی سے ڈر کر ان کو تیار کیا۔


































