
وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کی زیر صدارت پاکستان افغانستان پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ کی ایگزیکٹو کمیٹی کا ساتواں اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں ایم این اے وفاقی پارلیمانی سیکریٹری محمد یعقوب شیخ نے اور وفاقی وزرا اور ممبران نیشنل اسمبلی نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں پاک، افغان تجارت کے حجم میں مزید اضافے اور دو طرفہ تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ افغان تاجروں کی سہولت سے پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی حجم میں اضافہ ہو گا۔ علاج کی غرض سے پاکستان آنے والے افغان مریضوں کو پاکستان میں علاج کرنے میں آسانی ہو گی، جس سے صحت کے شعبہ کے ذریعے ملکی خزانے کو بھی خاطر خواہ فائدہ پہنچے گا. وزارت داخلہ کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ صحت سے متعلق سیاحت کے سلسلے میں نیا ویزا متعارف کرایا جا رہا ہے اور جلد ہی اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی ارباب شہزاد نے متعلقہ حکام کو دونوں ممالک کے مابین تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزارت تجارت کے نمائندے نے بتایا کہ دو طرفہ تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو حل کرنے کا طریقہ کار فعال ہے اور افغانستان کے ساتھ تجارتی معاہدے کی تجدید کے بارے میں بھی تفصیلات پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس میں کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ افغان شہریوں کے لئے پی آئی اے کا کرایہ نسبتاً زیادہ ہے۔ افغانستان کے لئے خصوصی ایلچی صادق خان نے کہا کہ کرایوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق معیاری بنانے کی ضرورت ہے. پاکستان ریلوے کے ٹرانزٹ ٹریڈ کو دوستانہ بنانے کی سفارش پر غور کرتے ہوئے پاکستان ریلوے کے حکام نے بتایا کہ 8 منصوبوں پر کام جاری ہے اور اب تک 28 ٹرینیں چلائی گئیں ہیں۔ اس کے علاوہ ایم ایل ون کو سی پیک منصوبے کے تحت طورخم سے پشاور تک چلایا جائے گا۔ وزارت برائے بندرگاہ اور جہاز رانی کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ افغان ٹرانزٹ تجارتی سامان کے لئے جلد ہی کراس اسٹفنگ کی اجازت دی جائے گی۔


































