Wed Oct 14, 2026

ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری جرمنی میں پولینڈ کے اسٹارلنک سیٹلائٹ اسٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کے الزام میں متعدد امریکی شہری گرفتار خلیجی ممالک میں کشیدگی، لاہور ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں منسوخ لاہور کا دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلا نمبر پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس

روزانہ کی خبریں

سانحہ اے پی ایس کو 6 برس مکمل

انسانیت سوز اور دل دہلا دینے والے سانحہ آرمی پبلک اسکول کو 6 برس بیت گئے لیکن اس سانحے کو یاد کر کے قوم کا غم آج بھی تازہ ہے۔ 6 سال قبل علم دشمنوں نے معصوم بچوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا تھا اور 16 دسمبر 2014ء کو مہاجرین کے روپ میں پاکستان داخل ہونے والے سفاک دہشتگردوں نے مقامی افراد کی مدد سے آرمی پبلک اسکول پر حملہ کیا تھا اور حصول علم میں مگن بچوں پر فائرنگ کر دی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز نے اسکول کا گھیراؤ کیا اور خود کار اسلحے سے لیس کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے 6 خود کش حملہ آوروں کو طویل آپریشن کے بعد ہلاک کیا تھا۔ 6 گھنٹے سے زائد کے آپریشن کے بعد اسکول کو کلئیر کیا گیا، سانحہ اے پی ایس میں بچوں سمیت 130 سے زیادہ افراد شہید ہوئے تھے۔
اس واقعے نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نئی روح پھونک دی جس کے بعد حکومت اور دیگر اداروں نے مل کر نیشنل ایکشن پلان بنایا اور شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے ذریعے دہشتگردوں کا صفایا کیا گیا۔ دل خراش واقعے میں اپنے جگر گوشے کھونے والے اپنے بچھڑے پیاروں کو یاد کرتے ہیں تو آنسو ہیں کہ رکنے کا نام نہیں لیتے تاہم جب انہیں شہداء کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے تو وہ خود کو ممتاز سمجھتے ہیں۔ جہاں ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ شہدا آرمی پبلک اسکول کی قربانیوں کی بدولت ممکن ہوا وہیں تعلیم دشمن عناصر کے عزائم بھی خاک میں مل گئے۔

مزید پڑھیے

Most Popular