آیت اللہ مہدوی کنی
ریا انسان کے اعمال کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیتا ہے جیسا کہ سورہ بقرہ کی ۳۶۲ ویں آیت میں بھی اس کا ذکر ہوا ہے۔ اللہ ریا کی خاطر مال خرچ کرنے کو اس انفاق کی طرح باطل قرار دیتا ہے جو دوسروں کو اذیت دینے اور ان پر منت جتلانے کے ساتھ ہو۔ فقہائ اور بزرگان سیر و سلوک کسی چیز کو ریا سے زیادہ اعمال کی تباہی اور خسارہ کا باعث نہیں سمجھتے۔
ریا جذام کے جراثیم کی طرح اندر ہی اندر سے اعمال کو خراب کردیتا ہے۔ ریا اور دکھاوے والا عمل اس درخت کی طرح ہے جس کی جڑیں نہ ہوں اور جو ہوا کے ایک جھونکے سے اکھڑ جائے۔ پس خدا کے لئے ریا پر مشتمل اعمال سے پرہیز کیجئے اس معاملے میں ہمیشہ اللہ سے پناہ مانگیے اور توسل و آہ و زاری کے ساتھ اپنے آپ کو لغزشوں سے محفوظ رکھیئے۔ نیز ہمیشہ صحیفہ سجادیہ کے درج ذیل الفاظ کو دہراتے ہوئے اللہ کو پکاریئے:
”(خدایا) ہماری عبادات کو ریا و خود نمائی سے پاک رکھ تاکہ ہم عبادت میں کسی کو تیرا شریک نہ ٹھہرائیں اور تیری ذات اقدس کے علاوہ کسی کو عبادت میں مقصود قرار نہ دیں۔“
محمد بن عرفہ کہتا ہے کہ حضرت امام رضاؑ نے مجھ سے فرمایا:
”وائے ہو تم پر اے فرزند عرفہ! ریا اور دکھاوے سے پاک عمل انجام دو کیونکہ جو شخص غیر اللہ کے لئے عمل انجام دے اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس عمل کے حوالے کردیتا ہے۔“
رسول اللہ کی ایک حدیث میں مذکور ہے:
”فرشتہ بندے کے عمل کو لے کر خوشی خوشی اوپر چلا جاتا ہے جب وہ اس کے نیک اعمال کو اوپر لے جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انہیں سجین (گناہگاروں) کے اعمال نامے میں شامل کرو کیونکہ اس نے یہ اعمال میری خاطر انجام نہیں دیئے۔“
عمل کے بعد ریا
فقہائے عالی مقام نیت کی بحث میں فرماتے ہیں کہ عمل کے بعد ریا کا مظاہرہ اس عمل کو باطل نہیں کرتا۔ یہ بات اصولی نقطہءنظر سے درست ہے کیونکہ جب عمل بجائے خود صحیح انجام پائے تو بعد والا ریا اس کی سابقہ حالت پر اثر انداز نہیں ہوتا لیکن بعض احادیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوسروں کے پاس اپنے اعمال کا تذکرہ کرنا اس کے ثواب میں کمی کا باعث بنتا ہے اور تکرار کی صورت میں ریا کی طرح عمل کو تباہ کردیتا ہے۔
بنابریں نہایت احتیاط کی ضرورت ہے تاکہ معمولی لغزش کی بناءپر گزشتہ زحمات رائیگاں نہ جائیں۔
حضرت امام محمد باقر ؑ سے منقول ہے:
”عمل کی حفاظت اس کی انجام دہی سے زیادہ مشکل ہے۔ سوال ہوا عمل کو محفوظ رکھنے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: آدمی صلہ رحمی کرتا ہے اور خدائے واحد کی راہ میں خرچ کرتا ہے پس یہ عمل ایک پوشیدہ نیکی کے طور پر درج ہو جاتا ہے پھر جب وہ اس کا تذکرہ کرتا ہے تو پہلی والی بات مٹادی جاتی ہے اور وہ آشکارا عمل کے طور پر درج ہوتا ہے۔ جب وہ دوسری مرتبہ اس کا ذکر کرے تو وہ نامہ عمل سے محوکیا جاتا ہے (اور ریا) کی حیثیت سے اس عمل کا اندراج ہوتا ہے۔“
ریا گناہ کبیرہ ہے
ریا عمل کو فاسد کرنے کے علاوہ خود بھی ایک عظیم گناہ ہے کیونکہ ریا شرک کے مترادف ہے اور شرک کا شمار گناہان کبیرہ میں ہوتا ہے۔
ایک حدیث میں رسول اکرم سے منقول ہے:
”بہ تحقیق مجھے تمہارے بارے میں جس چیز کا سب سے زیادہ خوف ہے وہ شرک اصغر ہے۔ لوگوں نے پوچھا اے اللہ کے رسول شرک اصغر کیا ہے؟ فرمایا اس سے مراد ریا ہے۔“
خلاصہ بحث
مذکورہ باتوں کی روشنی میں ہم اس نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ انسان کی خوش بختی و سعادت کی بنیاد یہ ہے کہ اللہ کی خالص اور بے لوث اطاعت کی جائے۔ اگر کوئی شخص ایسا عمل انجام دے جس سے ریا اور دکھاوے کی بو آتی ہو تو اس کا ذرہ برابر فائدہ نہ ہوگا اور وہ عمل اللہ کے ہاں مقبول قرار نہیں پائے گا۔ ایسا شخص قیامت کے دن خالی ہاتھ وادی محشر میں پہنچے گا کیونکہ اس کے پاس کوئی ایسا نیک عمل نہ ہوگا جسے وہ آخرت میں پیش کرکے ثواب حاصل کر سکے۔
اگر کوئی شخص چھپا کر کسی اچھے عمل کو انجام دے تو اللہ دنیا میں بھی لوگوں کی زبان پر اس کا ذکر خیر جاری فرمائے گا جیساکہ ارشاد ہوا ہے: ”تمہاری ذمہ داری ہے کہ تم اپنے نیک کام کو چھپاو ¿ اور میری ذمہ داری ہے کہ اس کو آشکار کروں۔“


































