| تحریر: شاہد عباس ہادی ہم یہ نکتہ اکثر بھول جاتے ہیں کہ جس طرح ہر بیج کے اندر ایک درخت چھپا ہوتا ہے، اسی طرح ایک ماں یا عورت کے اندر پوری قوم کی زندگی پوشیدہ ہوتی ہے۔ عقل و منطق ہم سے تقاضہ کرتی ہے کہ درخت کی دیکھ بھال کے ساتھ بیج کی عزت و تعظیم کی جائے، عورت کو اس کے حقوق دیئے جائیں اور ایک ماں ہونے کے ناطے بچوں کی دیکھ بھال کا موقع فراہم کیا جائے۔ ایک ماں کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ بچے کی تربیت یہ سوچ کر کرے کہ یہ بچے قوم کا مستقبل ہیں، یہ بچے قوم کا اثاثہ ہیں، اگر ماں نے بچے کی تربیت صحیح انداز میں کر دی تو گویا اس نے پوری قوم کو نجات یافتہ بنا دیا اور اگر کسی ماں نے بچے کی تربیت صحیح انداز میں نہ کی تو اس نے پوری قوم کی زندگیاں چھین لیں۔ اگر بات کو خاکی عہدہ داروں سے نکال کر نوری ذوات مقدسہ تک لے جایا جائے تو 20 جمادی الثانی کے دن گھرانہ نبوت میں ایک ایسا نور چمکا کہ جس نے عالم انسانیت میں چاروں طرف روشنی بکھیر دی اور ازل سے ابد تک پیدا ہونے والی ساری مخلوق کے لئے یہ نور مربی قرار پایا۔ اس دن ہمیں ماو ¿ں اور خواتین کا عالمی دن منانا چاہیئے، اگر کسی دن کو یوم مادر یا روز نسواں کہا جا سکتا ہے تو وہ صرف دختر رسول سیدہ فاطمہ زہراءسلام اللہ علیہا کی ولادت کا دن ہے، روز مادر کیلئے اس دن سے بہتر اور کوئی دن نہیں، کیونکہ آپ بحثیت مادر تربیت اولاد کیلئے رہنماءاصول ہیں۔ سیدہ زہراء(س) ماں کی حیثیت سے رہتی دنیا تک لئے ایسی لافانی مثال ہیں کہ ماں کی آغوش سے اولاد کو معراج ملتی ہے۔ ہمیں سیدہ فاطمہ زہراءسلام اللہ علیہا کو رول ماڈل بنانا ہوگا، ان کا ایک ایک فعل ہی نہیں بلکہ حرکات و سکنات بھی مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سیدہ زہراءکی سیرت کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنے بچوں کی تربیت میں کوئی پہلو نظرانداز نہیں کیا اور اس قدر کردار کو سنوارا کہ ہر ایک نے اپنے زمانے میں تاریخ رقم کی اور معاشرے کی آلودہ اور تاریک فضاو ¿ں کے باوجود دین کی صورت نور کے مینار کھڑے کیے، آپ کی سیرت کا حصہ ہے کہ جناب سیدہ حسنین کریمین ؑ کو دن میں سلا دیتی، تاکہ شب قدر میں رات بھر جاگ سکیں، مسجد سے واپسی پر جناب سیدہ بچوں سے رسول خدا اور علی مرتضیٰؑ کے بیانات اور دینی پیغامات کے متعلق پوچھتی، افطار کے وقت یتیم، مسکین، اسیر کو کھانا دینے میں پہل کرنے کے آداب سکھاتی اور کہتیں اے بیٹا تم باپ کی طرح ہونا، تاکہ حق کا دفاع کرنا، اللہ کی عبادت کرنا اور ان افراد سے دوستی نہ کرنا جو کینہ پرور ہوں۔ تربیت کے اس انوکھے اور نرالے انداز نے عالم انسانیت کو ماو ¿ں اور بچوں کی تربیت کے آداب و طریق سکھا دیئے۔ جناب فاطمہ جانتی تھیں کہ مجھے اس حسین (ع) کی تربیت کرنا ہے کہ جو اسلام کی ضرورت کے وقت اپنی اور اپنے عزیزوں کی جان دین اسلام کے دفاع اور ظلم سے مبارزہ کرکے فدا کرسکے اور اپنے عزیزوں کے پاکیزہ خون سے اسلام کے درخت کو سیراب کرسکے، بی بی سیدہ (س) جانتی تھیں کہ انھیں ایسی خواتین زینب اور ام کلثوم تربیت کرنی ہیں، جو اپنے پرجوش خطبوں اور تقریروں سے بنی امیہ کے ظلم و ستم کی حکومت کو رسوا کر دیں اور ان کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنا دیں۔ جناب فاطمہ (س) گھریلو یونیورسٹی میں زینب (س) کو فداکاری، شجاعت اور یزید کے ظلم سے مرعوب نہ ہونے کا درس دے رہی تھیں، تاکہ اپنی شعلہ بیانی سے دوست اور دشمن کو رلائے، بنوامیہ کے ظلم و ستم کی داستان کو کچل دینے کا درس دے رہی تھیں، تاکہ ظلم سے ہمیشہ نجات ملے اور مستقبل میں مرد و زن مل کر ہر ظلم و بربریت کی داستان کو پاو ¿ں تلے روند دیں۔ سیدہ زہراء(س) جانتی تھیں کہ متحمل مزاج فرزند امام حسن علیہ السلام جیسا تربیت کرنا ہے، تاکہ اسلام کے حساس موقع پر اپنے جگر کا خون پیتا رہے اور اسلام کی خاطر جنگ پر صلح کو ترجیح دیکر عالم کائنات کو بتلا دے کہ اسلام جب تک ممکن ہو، جنگ پر صلح کو ترجیح دیتا ہے۔ سیدہ زہراء(س) کی زندگی خواتین کے لئے ایسے ہی نمونہ عمل ہے، جیسے ختمی مرتبت حضرت محمد کا کردار و سیرت پوری انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے۔ معصومہ عالم کا کردار ولادت سے شہادت تک اس قدر نورانی اور جاذبِ قلب و نظر ہے کہ خود رسول اکرم (ص) نے جناب فاطمہ (س) کی زندگی کو ہر دور اور ہر زمانے میں اسوہ کامل قرار دیا ہے۔ ہمیں عملی طور پر سیدہ فاطمہ زہرائ( س) کا پیروکار ہونا چاہیئے، ہمیں اس راستے پر آگے بڑھنا چاہیئے، خدا تعالیٰ کی اطاعت کرنی چاہیئے، اپنے دلوں میں روز بروز خدا تعالیٰ کی محبت میں اضافہ کرنا چاہیئے، کیا ہم نہیں کہتے کہ انہوں نے خدا کی محبت میں اتنی عبادت کی کہ پاو ¿ں میں ورم آگئے؟ کیا ہم نہیں کہتے کہ وہ نقاہت کے عالم میں مسجد گئیں، تاکہ حق کا دفاع کرسکیں؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ وہ تن تنہا اپنے زمانے کے بڑے سامراج کے سامنے کھڑی ہوگئیں؟ ہمیں بھی حق کا دفاع کرنا چاہیئے، ہمیں بھی ان کی طرح جیسا کہ ان کے شوہر امام علی علیہ السلام نے کہا کہ وہ ساتھیوں کی کم تعداد سے نہیں ڈرتی تھیں، ہمیں بھی اپنی کم تعداد کی وجہ سے سامراج اور عالمی طاقتوں سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیئے۔ |


































