Mon Oct 19, 2026

ایرانی تنصیبات پر حملہ ہوا تو 9 ممالک کی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے، مشیر ولی امر مسلمین یورپ پرتشدد مظاہروں کی لپیٹ میں آگیا، فرانس، اٹلی، البانیہ، پرتگال میں جلاؤ گھیراؤ آبنائے ہرمز میں ایک اور جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا یمن پر سعودی جنگی طیاروں کے حملے، یمنی فوج کا نجران پر جوابی میزائل حملہ شرائط پوری ہو جائیں تو آبنائے ہرمز ایک ہفتے میں کھل جائے گی، عراقچی بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، بم دھماکے سے میجر شہید، 4 دہشت گرد ہلاک مہر داد اخلاقی ایران کے نئے وزیر دفاع منتخب ٹرمپ کا اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی مکمل حمایت کا اعلان کینیڈا کے فوجی اڈے پر تباہ کن آتشزدگی، ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق؛ تحقیقات جاری فرانس میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر پُرتشدد احتجاج، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، سینکڑوں گرفتاریاں یمنی فوج نے سعودی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا، 2 ارکان ہلاک فلسطینیوں کے قتل عام پر خاموش، مصری صدر یمن میں کارروائی کیلئے تیار خطے میں امن کے لیے تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ ضروری ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ امریکی بحریہ کا پاکستانی سرزمین سے ایران کے خلاف کارروائی کا دعویٰ بے بنیاد ہے، وزارت اطلاعات پاکستان نے گبد ریمدان بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں معطل کردیں

روزانہ کی خبریں

ترکی کی اسرائیل نوازی، صیہونی صدر کا شاندار استقبال، گارڈ آف آنر پیش

انقرہ : ترکی ایک بار پھر اسرائیل کی گود میں جابیٹھا۔ صیہونی صدر اسحاق ہرتزوگ انقرہ کے صدارتی محل پہنچے تو صدر اردوان نے ان کا استقبال کیا اور انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ترک بینڈ نے 2008 کے بعد پہلی مرتبہ اسرائیلی ترانہ بھی بجایا صیہونی صدر اسحاق ہرتزوگ ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کے لیے ترکی پہنچے، وہ گزشتہ 14 برس میں انقرہ پہنچنے والے پہلے اسرائیلی سربراہ مملکت ہیں۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں ملک مشکلات کا شکار اپنے تعلقات میں نئے باب کا آغاز کرنا چاہ رہے ہیں, اسرائیل اور ترکی کا حالیہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب انقرہ اپنی بین الاقوامی تنہائی کو ختم کرنے کے لیے مشرق وسطیٰ کے متعدد ملکوں سے تعلقات بہتر کر رہا ہے۔اپنے دورے سے قبل کی گئی گفتگو میں صیہونی صدر کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں بہت سے اتار چڑھاؤ کے بعد ہم ہر بات پر متفق نہیں ہو سکتے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان یکساں احترام کی بنیاد پر انہیں نئے سرے سے استوار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اسرائیلی صدر کے انقرہ پہنچنے پر استبنول میں احتجاج بھی کیا گیا۔ احتجاج میں غزہ کے لیے امدادی فلوٹیلا کا اہتمام کرنے والے ترک امدادی ادارے آئی ایچ ایچ کے رضاکار بھی شامل تھے۔

مزید پڑھیے

Most Popular