Tue Oct 13, 2026

ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری جرمنی میں پولینڈ کے اسٹارلنک سیٹلائٹ اسٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کے الزام میں متعدد امریکی شہری گرفتار خلیجی ممالک میں کشیدگی، لاہور ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں منسوخ لاہور کا دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلا نمبر پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس

روزانہ کی خبریں

امریکہ کے بغیر دنیا کا سب سے بڑا تجارتی معاہدہ

تحریر: سید رحیم نعمتی
 
اتوار 15 نومبر 2020ءعالمی تجارت کی تاریخ میں ایک بڑا اور یادگار دن جانا جائے گا۔ اس دن دنیا کے پندرہ ممالک نے ایک بہت بڑے عالمی تجارتی معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ یہ معاہدہ Regional Comprehensive Economic Partnership یا RCEP کے نام سے معروف ہے۔ اس عالمی تجارتی معاہدے کا نقطہ آغاز 2011ءمیں ایشیائی ممالک کے درمیان تشکیل پانے والی تنظیم ASEAN کا اجلاس تھا۔ اس تنظیم میں دس ایشیائی ممالک شامل تھے۔ انڈونیشیا، ملیشیا، تھائی لینڈ، سنگاپور، فلپائن، ویت نام، برونائی، کمبوڈیا، میانمار اور لاﺅس۔ اب ان دس ممالک میں پانچ مزید ممالک کا اضافہ ہو کر نیا تجارتی بلاک آڑ سی ای پی تشکیل پا چکا ہے۔ یہ نئے پانچ ممالک چین، آسٹریلیا، جاپان، نیوزی لینڈ اور جنوبی کوریا ہیں۔
 آئندہ دو برس میں اس معاہدے کو دھیرے دھیرے عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ معاہدے پر دستخط کے بعد اگلا مرحلہ ہر ملک کی اسمبلی میں اس معاہدے کی منظوری ہے۔ یہ عظیم عالمی تجارتی معاہدہ دنیا کی 30 فیصد تجارت پر مشتمل ہے جبکہ اس معاہدے میں شامل ممالک کی آبادی بھی دنیا کی کل آبادی کا تیس فیصد حصہ ہے۔ اس لحاظ سے اس معاہدے کے نتیجے میں تشکیل پانے والا بلاک حتی یورپی یونین سے بھی بڑا ہے۔ آر سی ای پی معاہدے کا اہم ترین نکتہ اس میں چین کی موجودگی اور امریکہ کی غیر موجودگی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں عالمی سطح پر انجام پانے والی تجارت میں چین کی شمولیت بڑھ جائے گی جبکہ امریکہ کی شمولیت کم ہو جائے گی۔
 آر سی ای پی کئی لحاظ سے چین کیلئے بہت زیادہ اہمیت کا حامل معاہدہ ہے۔ پہلی وجہ اس معاہدے میں دو ممالک جاپان اور جنوبی کوریا کی موجودگی ہے۔ یاد رہے چین، جاپان اور جنوبی کوریا مل کر ایشیا کی سب سے بڑی اقتصاد تشکیل دیتے ہیں۔ لہذا ان ممالک کی موجودگی مستقبل میں آر سی ای پی کے مزید مستحکم ہونے کا باعث بنے گی۔ دوسری طرف چین اس معاہدے کی برکت سے جاپان اور جنوبی کوریا سے تجارتی تعلقات کو فروغ دے کر ان ممالک کے پاس موجود ہائی ٹیک سے مستفید ہو سکتا ہے۔ چین کیلئے اس معاہدے کی اہمیت کی دوسری وجہ اس میں "ایشین” تنظیم کے رکن ممالک کی موجودگی ہے۔ معاہدے کی روشنی میں رکن ممالک کے درمیان تجارت میں سہولت اور ٹیکس کم ہونے کے نتیجے میں چین تجارتی فائدے حاصل کر سکتا ہے۔
 چین نہ صرف آر سی ای پی معاہدے کے ذریعے "ایشین” تنظیم کے رکن ممالک کی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے بلکہ بحیرہ چین کے جنوب میں واقع رکن ممالک سے تعلقات کو فروغ دے کر اس خطے میں موجود تنازعات کی شدت میں کمی لا سکتا ہے۔ درحقیقت بحیرہ چین کے جنوبی حصے میں امن و امان اور سکیورٹی صورتحال چین کے عالمی منصوبے "ون بیلٹ ون روڈ” کیلئے بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ آر سی ای پی بیجنگ اور ایشین تنظیم کے رکن ممالک میں تعلقات کو فروغ دے کر اس مقصد کے حصول کیلئے اہم اور بنیادی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چین کی نظر میں آر سی ای پی کی اہمیت کی ایک اور بڑی وجہ عالمی سطح پر امریکہ سے اس کی رسہ کشی ہے۔
 آر سی ای پی معاہدے کو حتمی شکل دے کر چین نے درحقیقت امریکہ کے مقابلے میں سب سے بڑے عالمی تجارتی معاہدے کی بنیاد رکھی ہے۔ اگر آر سی ای پی معاہدے کے بعض رکن ممالک جیسے جاپان اور ویت نام امریکہ کے اصلی تجارتی شریک شمار ہوتے ہیں لیکن توقع کی جا رہی ہے کہ یہ معاہدہ مستقبل میں ان ممالک کی خارجہ پالیسیوں کو بھی متاثر کرے گا۔ یہ ممالک بھی دھیرے دھیرے آر سی ای پی کی جانب کھنچے چلے آئیں گے اور امریکہ کے ساتھ ان کے تجارتی تعلقات کی سطح میں کمی واقع ہو گی۔ یہ نتیجہ بھی بذات خود امریکہ کے مقابلے میں چین کی اقتصادی پوزیشن کو مضبوط بنا کر اس کیلئے مددگار ثابت ہو گا۔ مزید برآں، امریکہ 2017ء میں بحر اوقیانوس کے اطراف تجارت کے معاہدے ٹی پی پی کیلئے جاری مذاکرات سے بھی دستبردار ہو گیا تھا۔
 اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی خام خیالی میں یہ تصور کر رہے تھے کہ عالمی معاہدوں سے دستبردار امریکہ کو ان معاہدوں کی پابندی سے آزادی عطا کرے گی لیکن ان کے اس اقدام نے چین کے سامنے اقتصادی سرگرمیوں میں وسعت لانے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ اس وقت ٹی پی پی میں شمولیت کے خواہش مند ممالک آر سی ای پی میں شامل ہو چکے ہیں۔ چین آر سی ای پی کے ذریعے بحر اوقیانوس کے اطراف ممالک میں تجارتی سرگرمیاں انجام دے سکتا ہے۔ ان ممالک کی منڈیوں میں چین کی موجودگی اسے امریکہ کے مقابلے میں مزید طاقتور بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ بھارت بھی 2019ءمیں اسی خوف کے باعث آر سی ای پی سے دستبردار ہوا تھا۔ لیکن توقع کی جا رہی ہے کہ اس معاہدے کے اجرا کے بعد بھارت سمیت دیگر ممالک بھی اس سے ملحق ہونے کی خواہش کا اظہار کریں گے۔
ReplyReply allForward

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular