
ٹرمپ کی صدارت گئی تو بن سلمان جوبائیڈن کی حمایت کیلئے کوشاں،ہٹ دھرمی چھوڑ کر قطر سے معاہدہ کی کوشش ،کویت اور امریکا کی ثالثی میں خفیہ مذاکرات
ایران سے تعلقات ختم کرنے سمیت 13کڑی شرائط پر خاموشی،قطر نے3 شرائط رکھ دیں،معاہدہ سلامتی کے خدشات سے نمٹنے سے مشروط ہے،سعودی وزیرخارجہ
ریاض (نیوز ڈیسک) سعودی عرب نے جوبائیڈن کی حمایت حاصل کرنے کیلئے قطر سے تین سال پرانے تنازع کوحل کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے اس اقدام کو بائیڈن انتظامیہ کو تحفہ دینے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے، فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے سعودی عرب کے تمام جرائم سے نظریں پھیر رکھی تھیں لیکن جوبائیڈن پہلے ہی جمال خاشقجی کے قتل،یمن جنگ ،بڑے پیمانے پر اہم شخصیات کی گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سعودی حکام پر کھلی تنقید کرچکے ہیں،وائٹ ہاو ¿س میں انتظامیہ کی تبدیلی پر بن سلمان کو اندازہ ہوگیا ہے کہ وہ شعلوں کے نزدیک کھڑے ہیں اسی لئے وہ ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر قطر سے معاہدہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ جوبائیڈن انتظامیہ کو تاثر دیا جاسکے کہ وہ قدم بڑھانے کو تیار ہیں اور اس نے کسی سمجھوتے کیلئے الجزیرہ نیٹ ورک پر پابندی، ایران سے تعلقات ختم کرنے اور ترکی کا فوجی اڈابند کرنے سمیت 13کڑی شرائط پر بھی زور نہیں دیا ہے، قطر کے ساتھ کسی سمجھوتے پر پہنچنے کیلئے امریکا اور کویت کی ثالثی میں بات چیت ہورہی ہے لیکن قطر نے سمجھوتے کیلئے تین شرائط عائد کردی ہیں جس میں اعتماد سازی کیلئے فضائی پابندی کا خاتمہ، قطری شہریوں کو پابندی عائد کرنے والے ممالک میں آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت اوران کی فلاح و بہبود کے بارے میں ضمانتیںدی جائیں، جبکہ سعودی اور اماراتی حکام چاہتے ہیں کہ قطر اپنا لہجہ نرم کرے ،شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کہا کہ سعودی عرب قطر کی ناکہ بندی ختم کرنے کے لئے کوئی راستہ تلاش کرنا چاہتا ہے لیکن یہ سلامتی کے خدشات سے نمٹنے سے مشروط ہے،وائٹ ہاو ¿س کے سینئر مشیر جیرڈ کشنر اور ان کی ٹیم ہمسایہ خلیجی ممالک کے درمیان تنازعہ کے حل کے مقصد سے بات چیت کیلئے رواں ہفتے سعودی عرب اور قطر کا سفر کرے گی۔


































