
اسلام آباد : قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے افغانستان میں طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق دنیا کی انتظار کرو اور دیکھو پر مبنی پالیسی کو ناقص حکمت عملی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا رویہ جنگ زدہ ملک کو مزید معاشی تباہی کی جانب دھکیل دے گا، میڈیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معید یوسف نے کہا کہ مغربی ممالک نے 1990 کی دہائی میں وہی غلطی کی جس کے نتائج معاشی تباہی، خانہ جنگی اور بین الاقوامی دہشت گردی کی صورت میں ہمارے سامنے آئے، اب مغربی رہنماؤں نے غلطی تسلیم کر لی ہے اور اسے دوبارہ نہ کرنے کا عہد کیا ہے، تاہم عالمی برادری افغانستان میں نئی انتظامیہ سے تعلقات استوار کرنے میں تذبذب کا شکار ہے،معید یوسف نے کہا کہ انسانی امداد محض ایک عارضی اور جزوقتی انتظام ہے جو کہ گورننس، ادارہ جاتی اور اقتصادی تعاون کے برابر نہیں جو حقیقی معنوں میں افغانستان کو درپیش مشکلات سے نکلنے کے لیے درکار ہیں۔


































