
لندن : دنیا بھر میں مختلف بحرانوں کے باعث 2022 کے دوران سات کروڑ 10 لاکھ افراد کو بے گھر ہونا پڑا۔ انٹرنیشنل ڈسپلیسمنٹ مانیٹرنگ سینٹر اور ناویجن رفیوجی کونسل کی رپورٹ کے مطابق پچھلے سال بے گھر افراد کی تعداد تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ سات کروڑ 10 لاکھ افراد میں سے 20 فیصد کو سال کے آغاز میں ہی دربدر ہونا پڑا۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق روس اور یوکرین کی جنگ اور مون سون کے دوران پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے تھا۔رپورٹ کے مطابق 2021 میں گھر چھوڑنے والے افراد کی تعداد تین کروڑ 80 تھی جبکہ 2022 کے دوران اس میں 60 فیصد اضافہ ہوا۔ آئی ڈی ایم سی کے سربراہ الیگزینڈر بیلاک نے اعدادوشمار کو تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ یہ خطرناک حد تک زیادہ ہے۔ تعداد میں سب سے زیادہ اضافہ یقیناً یوکرین کی جنگ اور پاکستان میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے ہوا۔ جبکہ اس کے بعد دیگر بحران لوگوں کے گھر ہونے کا باعث بنے۔ پچھلے سال صرف یوکرین میں ہی ایک کروڑ 70 لاکھ لوگوں کو گھر چھوڑنے پڑے جبکہ پاکستان میں سیلابوں کی وجہ سے پاکستان میں 80 لاکھ لوگوں کو دوسرے علاقوں میں منتقل ہونا پڑا۔ اسی طرح افریقہ میں ایک کروڑ 65 لاکھ میں لوگوں نے گھر چھوڑے جن میں نصف سے زیادہ لوگوں کو شورش کی وجہ سے قدم اٹھانا پڑے اور ایسی صورت حال خصوصی طور پر کانگو اور ایتھوپیا میں دیکھنے میں آئی۔ عالمی سطح پر نقل مکانی کے اعداد وشمار رواں سال مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے اور اس کی وجہ سے سوڈان میں پھوٹنے والے فسادات کو قرار دیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ اپنے گھر چھوڑ چکے ہیں۔


































