Tue Oct 13, 2026

امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری جرمنی میں پولینڈ کے اسٹارلنک سیٹلائٹ اسٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کے الزام میں متعدد امریکی شہری گرفتار خلیجی ممالک میں کشیدگی، لاہور ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں منسوخ لاہور کا دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلا نمبر پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس خیبرپختونخوا میں گورنر راج جمہوری اقدار پر سنگین حملہ ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور منتخب وزیراعلیٰ کی گرفتاری جمہوریت پر شب خون ہے، علامہ باقر زیدی امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا، ایرانی اخبار یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں

روزانہ کی خبریں

دنیا میں مختلف بحران، 2022 میں 7 کروڑ 10 لاکھ افراد بے گھر

لندن : دنیا بھر میں مختلف بحرانوں کے باعث 2022 کے دوران سات کروڑ 10 لاکھ افراد کو بے گھر ہونا پڑا۔ انٹرنیشنل ڈسپلیسمنٹ مانیٹرنگ سینٹر اور ناویجن رفیوجی کونسل کی رپورٹ کے مطابق پچھلے سال بے گھر افراد کی تعداد تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ سات کروڑ 10 لاکھ افراد میں سے 20 فیصد کو سال کے آغاز میں ہی دربدر ہونا پڑا۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق روس اور یوکرین کی جنگ اور مون سون کے دوران پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے تھا۔رپورٹ کے مطابق 2021 میں گھر چھوڑنے والے افراد کی تعداد تین کروڑ 80 تھی جبکہ 2022 کے دوران اس میں 60 فیصد اضافہ ہوا۔ آئی ڈی ایم سی کے سربراہ الیگزینڈر بیلاک نے اعدادوشمار کو تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ یہ خطرناک حد تک زیادہ ہے۔ تعداد میں سب سے زیادہ اضافہ یقیناً یوکرین کی جنگ اور پاکستان میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے ہوا۔ جبکہ اس کے بعد دیگر بحران لوگوں کے گھر ہونے کا باعث بنے۔ پچھلے سال صرف یوکرین میں ہی ایک کروڑ 70 لاکھ لوگوں کو گھر چھوڑنے پڑے جبکہ پاکستان میں سیلابوں کی وجہ سے پاکستان میں 80 لاکھ لوگوں کو دوسرے علاقوں میں منتقل ہونا پڑا۔ اسی طرح افریقہ میں ایک کروڑ 65 لاکھ میں لوگوں نے گھر چھوڑے جن میں نصف سے زیادہ لوگوں کو شورش کی وجہ سے قدم اٹھانا پڑے اور ایسی صورت حال خصوصی طور پر کانگو اور ایتھوپیا میں دیکھنے میں آئی۔ عالمی سطح پر نقل مکانی کے اعداد وشمار رواں سال مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے اور اس کی وجہ سے سوڈان میں پھوٹنے والے فسادات کو قرار دیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ اپنے گھر چھوڑ چکے ہیں۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular