Tue Oct 13, 2026

ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری جرمنی میں پولینڈ کے اسٹارلنک سیٹلائٹ اسٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کے الزام میں متعدد امریکی شہری گرفتار خلیجی ممالک میں کشیدگی، لاہور ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں منسوخ لاہور کا دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلا نمبر پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس

روزانہ کی خبریں

امریکا نے 6 ہزار غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کر دیے

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ چھ ہزار سے زائد غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کیے گئے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں اقدام کی وجوہات مقررہ وقت سے زائد قیام اور قانون شکنی قرار دی گئی ہیں جبکہ ایک مختصر تعداد ان لوگوں کی بھی ہے جو امریکا کے مطابق دہشت گردی کو سپورٹ کرتے ہیں۔
یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کے امیگریشن سے جڑے معاملات پر کریک ڈاؤن کے ایک ضمنی حصے کے طور پر سامنے آیا ہے اور اسٹوڈنٹ ویزوں کے بارے میں بھی سخت رویہ اپنایا گیا ہے اور سوشل میڈیا پر طلبہ کی چیکنگ سخت کرنے کے ساتھ ساتھ سکریننگ کا دائرہ کار بھی بڑھایا گیا ہے۔
وزارت خارجہ کی جانب سے رواں برس بیرون ملک امریکی سفارت کاروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ ایسے لوگوں کی درخواستوں کے بارے میں ہوشیار رہیں جن کو امریکہ مخالف کے طور پر دیکھا جاتا ہے یا وہ سیاسی ایکٹیویزم سے منسلک رہے ہوں۔ امریکی حکام کے مطابق چار ہزار کے قریب ویزے قانون شکنی پر کینسل کیے گئے جن میں سے زیادہ تر نشے میں گاڑی چلانے، حملہ کرنے یا چوری جیسے دیگر جرائم میں ملوث تھے، دہشت گردی کی حمایت کی وجہ سے 200 سے 300 ویزے منسوخ کیے گئے۔
حکام نے یہ نہیں بتایا کہ جن طلبہ کے ویزے منسوخ کیے گئے ہیں وہ کن گروپوں کی حمایت کر رہے تھے، اس سے قبل کئی بار صدر ٹرمپ امریکی جامعات سے الجھ چکے ہیں اور غزہ جنگ کے دوران احتجاج کرنے والوں اور بعض تعلیمی اداروں پر سام دشمنی کے الزامات لگا چکے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ انہوں نے سینکڑوں یا پھر ہزاروں لوگوں کے ویزے منسوخ کیے جن میں طلبا و طالبات کے ویزے بھی شامل ہیں کیونکہ وہ ایسی سرگرمیوں میں شامل تھے جو امریکا کی خارجہ پالیسی کے خلاف تھیں۔
اسی طرح ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کا یہ بھی کہنا ہے اسٹوڈنٹ ویزہ اور گرین کارڈ رکھنے والے افراد بھی فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیل پر تنقید کی صورت میں ڈی پورٹ کیے جا سکتے ہیں، ان پر حماس کی حمایت کا الزام لگاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ سب کچھ امریکہ کی خارجہ پالیسی کے خلاف ہے۔ ترکیہ سے تعلق رکھنے والی ٹفٹس یونیورسٹی کی ایک طالبہ کو چھ ہفتے سے زائد تک امیگریشن سینٹر میں حراست میں رکھا گیا کیونکہ انہوں نے ایک مضمون میں غزہ جنگ پر اسکولوں کے ردعمل پر تنقید کی تھی اور ان کو وفاقی جج کی جانب سے ضمانت دیے جانے کے بعد رہا کیا گیا تھا۔
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کے مخالفین نے ایسے اقدامات کو آزادی اظہار رائے پر حملہ قرار دیا ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular