
جنیوا: بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ہینڈی کیپ انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری کے بعد نہ پھٹنے والا بارودی مواد فلسطینیوں کے لیے جان لیوا خطرہ بنا ہوا ہے۔
ہینڈی کیپ انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا کہ ضروری ڈی مائننگ آلات کو فوری طور پر غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے، کیونکہ تاخیر انسانی جانوں کے لیے مہلک ثابت ہوسکتی ہے۔ تنظیم کی ڈائریکٹر این-کلیئر یائش نے بتایا کہ سات اکتوبر 2023 کو نسل کشی کے آغاز سے اب تک تقریباً ستر ہزار ٹن دھماکہ خیز مواد غزہ پر گرایا جاچکا ہے۔ جس نے اس علاقے کو دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ خطوں میں تبدیل کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ پھٹے ہوئے بم میزائل اور بارود گھروں، اسکولوں اور اسپتالوں کے ملبے کے نیچے دبے پڑے ہیں۔ اسرائیلی پابندیاں ان خطرناک باقیات کو صاف کرنے کے عمل میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔


































